اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد دھرنے کیس میں مظاہرین کا وفاقی دارالخلافہ میں آنے والے راستے کو یرغمال بنانے اور بعد ازاں مشتعل ہونے کے معاملے پر سیکریٹری دفاع اور وزارت داخلہ کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ڈائریکٹر جنرل کو طلبی کا سمن جاری کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سماعت کے دوران وفاقی حکومت کو 9 فروری کو ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامے میں تبدیلی پر تحقیقات کرنے والی راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں بنی کمیٹی کی رپورٹ جمع کرانے کا بھی حکم دے دیا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد دھرنا: کب، کیا اور کیسے ہوا

جج نے وفاقی سیکرٹریز کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے عدالتی احکامات نہ مانے تو ان کے خلاف توہین عدالت کا کیس چلایا جاسکتا ہے۔

عدالت نے متعلقہ حکام کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں نہ ہی کوئی رپورٹ اور نہ ہی کسی کا بیان عدالت میں جمع کرایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل گزشتہ احکامات میں جسٹس صدیقی کا کہنا تھا کہ ہمارے حساس اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام میں پیدا ہونے والے اس تاثر کو ختم کرے کہ فیض آباد دھرنے میں خفیہ ادارے ملوث تھے۔

یہ بھی پڑھیں: فیض آباد آپریشن: تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کی وجہ سے جڑواں شہر، راولپنڈی اور اسلام آباد مفلوج ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ آزادی اظہار رائے نہیں بلکہ ریاست مخالف سرگرمی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ اور اس کے ججز کو ناموں سے پکارنا برداشت کے قابل نہیں ہے۔


یہ خبر 13 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی