شاہ زیب قتل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ملزمان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان کا نام (ایگزٹ کنٹرول لسٹ) ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ 2012 میں ڈیفنس کے علاقے میں 20 سالہ نوجوان شاہ زیب کو قتل کرنے والے شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر ملزمان کو 24 دسمبر کو عدالت کی منظوری کے بعد ضمانت پر جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

شاہ زیب کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ وہ عدالت سے باہر ملزمان کے خاندان سے مصالحت کرچکے ہیں۔

بعد ازاں وکلا، انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر اور کراچی کے دیگر شہریوں نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی اور ان کے ساتھیوں کے مقدمے کو سیشن عدالت بھیجنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی۔

سماعت کے آغاز میں درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے واقعے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا تھا جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے اس کے برخلاف فیصلہ دیا اور واقعہ کو ذاتی جھگڑا قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اہم قانونی نکات کو نظر انداز کیا جبکہ ٹرائل کے دوران ہی مقدمہ کی نوعیت طے ہوچکی تھی اور فیصلہ آگیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی عام جھگڑا نہیں تھا، واقعے سے سوسائٹی میں خوف پھیل گیا تھا جبکہ عدالت عالیہ واقعے کو دہشت گردی قرار دے چکی تھی۔

مزید پڑھیں: شاہ زیب قتل کیس: سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ہمیں قانون کی پیروی کرنا ہے اور ہم سول سوسائٹی کا احترام بھی کرتے ہیں مگر قانون ان سے بالا دست نہیں تاہم ہم درخواست گزاروں کے فریق ہونے کی قانونی حیثیت کا بھی جائزہ لیں گے۔

سماعت کے دوران ملزم شاہ رخ جتوئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ فریقین کے مابین صلح ہوچکی ہے اب مزید سماعت کی ضرورت نہیں، کیونکہ کیس کی سماعت کے دوران کسی بھی گواہ نے یہ نہیں کہا کہ یہ واقعہ دہشت گردی کا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہائی کورٹ کا دہشت گردی دفعات برقرار رکھنے کا حکم جسٹس سجاد علی شاہ کا تھا اور کسی فریق کو ان پر اعتراض ہے تو انہیں بینچ سے الگ کردیتے ہیں۔

جس پر لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں وہ کیس سنیں تاہم اگر عوام کو فریق بننے کی اجازت دیں گے تو 22 کروڑ لوگوں کو دیکھنا ہوگا کیونکہ فریق بننے کے لیے سب ہی آسکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے عدالت قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی لہٰذا کیس میں نامز فریقین کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا واقعی کسی گواہ نے نہیں کہا کہ اس واقعہ سے دہشت پھیلی؟

یہ بھی پڑھیں: شاہ زیب قتل کیس: سیشن عدالت کے حکم پر ملزمان ضمانت پر رہا

فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کو طے کرنا ہے کہ دہشت گردی تھی یا نہیں کیونکہ اگر یہ دہشت گردی کا واقعہ نہیں تو سول سوسائٹی فریق نہیں بن سکتی تھی مگر یہ کوئی قتل کا عام واقعہ نہیں بلکہ اس واقعے کے بعد کراچی بھر میں مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کو قانونی دلائل اور حوالے بتائے جائیں کیونکہ عدالت احتجاج اور مظاہروں پر نہیں قانون کے مطابق فیصلہ دے گی۔

ملزم شاہ رخ جتوئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ تھپڑ مارنے پر جھگڑا بڑھا اور معافی نہ مانگنے پر گولی چل گئی تھی۔

اپنے دلائل کے دوران ان کا کہنا تھا کہ رات کا دیڑھ بج رہا تھا وہاں دوسرے لوگ نہیں تھے جن میں خوف پھیلتا، امیر ہونا یا امیر کا بیٹا ہونا تو جرم نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: شاہ زیب قتل کیس: مجرموں کی سزائیں کالعدم قرار

انہوں نے مزید کہا کہ کسی نے امام بارگاہ یا مسجد پر جاکر حملہ نہیں کیا جہاں دہشت گردی کی دفعات لگا دی جائیں۔

چیف جسٹس نے ان کے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیتے ہوئے کہا ’اس انا نے ہی ہمیں برباد کردیا ہے، ہمیں کسی بھی معاملے کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔‘

ملزم غلام مرتضیٰ لاشاری کے وکیل بار اعوان نے عدالت میں اپنے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرائل میں پیش ہونے والے گواہوں کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ واقعی اس حادثے سے خوف یا دہشت پھیلی تھی۔

بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ قتل کبیرہ گناہ ہے، اور کسی بے گناہ کو سزا نہیں ہونی چاہیے ورنہ یہ بھی قتل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ طاہر القادری کیس میں بھی سپریم کورٹ دہشت گردی کے مقدمات میں صلح کا معاملہ بھی طے کرچکی ہے اور اس لکے علاوہ بھی سپریم کورٹ دہشت گردی کے کئی کیسز میں صلح منظور کرچکی ہے۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں قابلِ سماعت قرار دے دیا جبکہ عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم دے دیا اور ہدایت جاری کی کہ کیس کی آئندہ سماعت پر ملزمان کی حاضری یقینی بنائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: شاہ زیب قتل کیس: مرکزی ملزم گرفتار

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ہمارا نقطہ اعتراض یہ تھا کہ اس کیس سے جن کا تعلق نہیں وہ درخواست دائر نہیں کر سکتے اور ایسا ہی حدیبیہ پیپر ملز کیس میں بھی ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کے فیصلے کے بعد حدیبیہ پیپر ملز میں پی ٹی آئی کے فریق بننے کے چانسز شامل ہو گئے ہیں اور ہم اس حوالے سے پارٹی قیادت سے مشاورت کرکے فیصلہ کریں گے۔

خیال رہے کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے نوجوان شاہ زیب کو قتل کرنے کے جرم میں شارخ جتوئی اور سراج علی تالپور کو سزائے موت سنادی تھی جبکہ سجاد علی تالپور اور غلام مرتضیٰ لاشاری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت کی جانب سے سزائے موت سنانے کے چند ماہ بعد شاہ زیب کے والدین نے معافی نامہ جاری کردیا تھا جس کو سندھ ہائی کورٹ نے منظور کیا تھا۔

شاہ زیب کے والدین کی جانب سے معافی نامہ جاری کرنے کے بعد سزائے موت دہشت گردی کی دفعات کے باعث برقرار تھی تاہم سندھ ہائی کورٹ نے سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ تفتیش کا حکم جاری کردیا تھا جس کا اطلاق گزشتہ ماہ سے ہوچکا ہے۔