تہران: ایران کا کہنا ہے کہ اسے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے میں کوئی بھی تبدیلی قابل قبول نہیں ہوگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کی جانب سے معاہدے کے ’خوفناک خامیوں‘ کو دور نہ کرنے پر آئندہ چند ماہ میں اسے ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ کے مطابق ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’آئی آر این اے‘ کی رپورٹ میں وزارت خارجہ کے حوالے سے کہا گیا کہ ’ایران معاہدے میں اب یا مستقبل میں کسی تبدیلی کو قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنے وعدوں سے ہٹ کر کوئی ایکشن لے گا۔‘

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’تہران معاہدے کو دیگر مسائل سے جوڑنے کی اجازت نہیں دے گا۔‘

یہ بھی پڑھیں: میزائل تجربہ: امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پر پابندیوں کے حوالے سے نرمی کو اس کے طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنے سے جوڑا جائے گا۔

امریکی صدر نے جمعہ کے روز ایران پر جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے کے بعد اٹھائی گئی اقتصادی پابندیوں کو دوبارہ لگانے کے فیصلے کو موخر کردیا تھا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ معاہدے میں ایران کو اگلی دہائی میں جدید نیوکلیئر سرگرمیوں کو بحال کرنے کی اجازت دینے سے متعلق شقوں کو ختم کرنے کے لیے کام کریں گے۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں مظاہرین کی ’حمایت‘ کے عزم کا اعلان

انہوں نے ایران پر اقتصادی پابندیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے جوڑا تھا۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی عدلیہ کے سربراہ سمیت ایران، چین اور ملائیشیا کے 14 ایرانی سرکاری عہدیداران، کمپنیوں اور کاروباری افراد پر پابندیاں عائد کردی تھی، جس کے تحت ان افراد اور کمپنیوں کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد اور امریکی شہریوں کو ان سے مالی لین دین سے روک دیا گیا تھا۔

ایران کی طرف سے امریکا کے اس اقدام پر ردعمل میں کہا گیا کہ ایرانی عدلیہ کے چیف صادق امولی لاریجانی پر پابندی عائد کرکے امریکا نے حد پار کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

بیان میں کہا گیا کہ امریکا کے یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور امریکا کے وعدوں کے خلاف ہے، جس پر ایران سخت ردعمل دے گا۔

ایران پر اقتصادی پابندیوں کا اگلا فیصلہ مئی میں ہوگا۔