ججز کی بغاوت: سپریم کورٹ بار کی بھی بھارتی ججز کی حمایت

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2018

Email


بھارتی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر پریس کانفرنس کرتے ہوئے — فوٹو: بشکریہ ہندوستان ٹائمز
بھارتی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر پریس کانفرنس کرتے ہوئے — فوٹو: بشکریہ ہندوستان ٹائمز

بھارتی چیف جسٹس کے خلاف بغاوت کرنے والے چار سینئر ججز کی حمایت میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بھی سامنے آگئی اور اس نے ججز کے موقف کی تائید کردی۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ بار نے سینئر ججز کے مقامی جج بِرج گوپال لویا کی موت کی تحقیقات کے حوالے سے درخواست دوسرے بینچ کو منتقل کرنے کے مطالبے کی حمایت کی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جج برج گوپال لویا کی پراسرار موت کی شفاف تحقیقات سے متعلق دو درخواستوں کی سماعت اس بینچ کو سونپی گئی ہے، جس کی سربراہی سنیارٹی کے لحاظ سے دسویں نمبر پر ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ کی بار ایسوسی ایشن نے ہفتہ کے روز ایک قرارداد بھی منظور کی جس میں کہا گیا ’چیف جسٹس زیر التوا سمیت پی آئی ایل کے تمام معاملات کا ازخود نوٹس لیں یا کسی ایسے بینچ کو سونپ دیں جس کی سربراہی چیف جسٹس کے بعد چار سینئر ججز میں سے کوئی کر رہا ہو۔‘

قرارداد میں ججز کے درمیان اختلافات کو ’انتہائی تشویشناک معاملہ‘ قرار دیا گیا۔

مزید پڑھیں: بھارتی ججز نے ملک کے چیف جسٹس کی صداقت پر سوالات اٹھا دیئے

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارتی سپریم کورٹ کے چار ججز نے چیف جسٹس پر عوامی سطح پر تنقید کا غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے تنبیہ کی تھی کہ غیر جانبداری میں کمی سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

اپنی ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران ججز کا کہنا تھا کہ وہ چیف جسٹس دیپک مِشرا سے اپنے اختلافات نجی ملاقاتوں میں ان کی شکایات دور نہ ہونے کے بعد سامنے لارہے ہیں۔

بھارتی میڈیا میں ریلیز ہونے والے خط میں ججز کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس مبینہ طور پر جانبداری کا مظاہرہ اور عدالتی اصولوں کے خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی پسند کے مطابق مختلف بینچوں کو کیسز متعین کرتے ہیں، جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔

جسٹس جَستی چیلامیشور نے صحافیوں کو بتایا کہ ’سپریم کورٹ کی انتظامیہ اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کر رہی اور گزشتہ چند ماہ کے دوران ایسی کئی باتیں رونما ہوئی ہیں جن کی خواہش نہیں کی جاسکتی۔‘

پریس کانفرنس کے دوران ایک جج کا کہنا تھا کہ ان کے خدشات 2014 میں موت کا شکار ہونے مقامی عدالت کے جج بی ایچ لویا کے کیس سے متعلق ہیں، جن کی موت حکمراں جماعت کے سینئر سیاستدان کے کیس کا حتمی فیصلہ سنانے سے چند روز قبل ہوئی جس میں انہیں قتل کا حکم دینے کا ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔