کراچی پولیس نے مبینہ اے ٹی ایم اسکیمنگ فراڈ کے سلسلے میں چار چینی باشندوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 23 لاکھ روپے اور 350 اے ٹی ایم کارڈز بھی برآمد کرلیے۔

کلفٹن کے سپرینٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) ڈاکٹر اسد مالہی کا کہنا تھا کہ پولیس نے ڈیفنس فیز ٹو کے علاقے میں چینی باشندوں کے ایک گروپ کی مشکوک سرگرمیوں کے حوالے سے اطلاعات پر کارروائی کی اور تین افراد کو گرفتار کرلی جبکہ ان کے دو ساتھی فرار ہوگئے۔

ایس پی کلفٹن نے کہا کہ یہ گروپ منظم گینگ ہے جو اسکیمنگ فراڈ کے لیے نوجوان چینی باشندوں کی اپنے ساتھ شامل کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مشتبہ افراد کو فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: اے ٹی ایم اسکیمنگ کے شبہے میں دو چینی باشندے زیر حراست

خیال رہے کہ ان گرفتاریوں کے بعد کراچی میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اے ٹی ایم اسکیمنگ فراڈ کے سلسلے میں گرفتار ہونے والے چینی باشندوں کی تعداد 6 ہو گئی ہے۔

’اے ٹی ایم فراڈ‘ میں ایک اور چینی باشندہ گرفتار

قبل ازیں کراچی کے علاقے بہادرآباد میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اے ٹی ایم فراڈ کے شبہے میں ایک اور چینی شہری کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ ان کے دیگر 3 ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ایسٹ سمیع اللہ سومرو کے مطابق صبح سویرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک کال موصول ہوئی تھی، جس میں ٹیپو سلطان روڈ کےقریب شبیر آباد کے علاقے میں سمٹ بینک اور مسلم کمرشل بینک کے اے ٹی ایم میں اسکیمنگ کرنے والے ایک چینی باشندے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔

اس کال کے موصول ہونے پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چینی شہری شو ژو پنگ کو گرفتار کرلیا اور اس کے قبضے سے ساڑھے 6 لاکھ روپے، چینی کرنسی، اے ٹی ایم اسکیمنگ ڈیوائسز، آئی ڈی کارڈ، پاسپورٹ اور موبائل فون برآمد کرلیے، تاہم ملزم کے تین ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کا عمل جاری ہے تاکہ اس معاملے کی مزید تحقیقات کی جاسکیں۔

واضح رہے کہ 10 جنوری کو کراچی کے علاقے صدر میں زینب مارکیٹ کے قریب اے ٹی ایم اسکیمنگ کے ذریعے صارفین کی تفصیلات بینک سے چوری کرنے والے دو چینی باشندوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔

کراچی پولیس نے دونوں چینی باشندوں کو نجی بینک کے اے ٹی ایم کے سامنے سے حراست میں لیا تھا اور ان کے قبضے سے اسکیمنگ مشینیں سمیت دیگر سامان برآمد کر لیا تھا۔

یاد رہے کہ ملک میں اے ٹی ایم اسکیمنگ فراڈ کی خبریں اس وقت منظر عام پر آئی تھیں جب حبیب بینک نے اپنے 559 صارفین سے ایک کروڑ سے زائد رقم چوری ہونے کی تصدیق کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اے ٹی ایم فراڈ: 559 بینک اکاؤنٹس سے 1 کروڑ روپے کی چوری

بینک کی جانب سے کہا گیا تھا کہ انڈونیشیا، چین اور دیگر ممالک کو کی گئی ٹرانزیکشن پکڑی گئی تھیں۔

ایف آئی اے نے اپنی سفارشات میں کہا تھا کہ بینک اے ٹی ایم کے لیے پرانی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں اور اے ٹی ایم بوتھ میں دہائیوں پرانے طرز کا سیکیورٹی نظام قائم ہیں جو اس طرح کے گینگ کے لیے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔