بیجنگ: چینی حکام نے صوبے شینسی میں لیفن کے مقام پر قائم مسیحی عبادت گاہ گولڈن لیمپ اسٹینڈ چرچ کو غیر قانونی تعمیرات قرار دیتے ہوئے منہدم کردیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کی کمیونسٹ پارٹی مذہب سمیت کسی بھی منظم تحریکوں یا گروہ کو اپنے متعین کردہ دائرہ کار سے باہر برداشت کرنے پر آمادہ نہیں ہے، اگست 2014 میں چین کے صدر شی جن پنگ نے مذہبی تنظیموں سے کہا تھا کہ وہ اپنی اقدار کو چینی ثقافت اور کمیونسٹ پارٹی سے ہم آہنگ بنائیں۔

یہ پڑھیں: چین کے مطالبے پر تین مذہبی تنظیمیں کالعدم

دوسری جانب گلوبل ٹائمز اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی حکومت کے ایک عہدیدار نے بتایا شہر سے غیر قانونی عمارتوں کو منہدم کرنے کے حوالے سے قومی سطح پر مہم چلائی گئی ہے جس کے بعد چرچ کو منہدم کرنے کا عمل سامنے آیا۔

اخبار کے مطابق ‘ایک مقامی مسیحی نے اپنی ملکیت میں موجود زمین ایسوسی ایشن کے سپرد کی تھی، جس کے بعد ایسوسی ایشن نے گودام کی بلڈنگ کی آڑ میں چرچ تعمیر کیا’۔

یہ پڑھیں: چین: سنکیانگ کے مسلمانوں کیلئے درجنوں ناموں پر پابندی

چینی حکام نے بتایا کہ متعلقہ انتظامیہ نے 2009 میں چرچ کے خلاف کارروائی کی تھی لیکن اس وقت تک چرچ تقریباً مکمل تعمیر ہو چکا تھا اور اسی دوران متعلقہ سرکاری محکمے نے چرچ کے متعدد ممبران کو گرفتار کرکے جیل بھی منتقل کیا تھا۔

امریکا میں قائم مذہبی ادارے چائنا ایڈ ایسوسی ایشن کے صدر باب فو نے چینی حکام کی جانب سے چرچ کے خلاف اٹھائے گئے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چرچ کو منہدم کرنے کے لیے ایسا رویہ اختیار کیا گیا جیسا کالعدم تنظیموں کے خلاف ہوتا ہے جبکہ پرامن چرچ کے 50 ہزار ارکان کو اس اقدام سے صدمہ پہنچا ہے۔

مزید پڑھی: چین: سنکیانگ میں روزے رکھنے پر پابندی

باب فو کا کہنا تھا کہ چرچ کو محض اس لیے تباہ کردیا گیا کہ چرچ انتظامیہ نے کمیونسٹ اتھارٹیز کے رجسٹریشن سے انکار کیا تھا۔

2012 میں شی جن پنگ کے صدر منتخب ہونے کے بعد سے سول سوسائٹی پر کریک ڈاؤن کی اطلاعات ہیں۔

گزشتہ برس امریکا کے اسٹیٹ ڈپارمنٹ نے سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ چین میں 2016 میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مذہبی گروپس کے خلاف گرفتاریاں اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔


یہ رپورٹ 14 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی