کراچی کے علاقے ڈیفنس میں مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے انتظار احمد کے قتل کے الزام میں اینٹی کار لفٹنگ سیل (اے سی ایل سی) کے 4 اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہدایت کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ رات ڈیفنس میں خیابان اتحاد پر اے سی ایل سی کے حکام کی جانب سے انتظار احمد کی کار کو روکنے کا اشارہ کیا گیا، تاہم گاڑی نہ رکنے پر فائرنگ کردی گئی تھی، جس سے وہ جاں بحق ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں: دو دریا نوجوان قتل کیس: مرکزی ملزم کا مزید تین روزہ ریمانڈ

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) اے سی ایل سی مقدس حیدر کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد 4 اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا۔

تاہم ابتدائی طور پر پولیس حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ نامعلوم افراد کی جانب سے مقتول انتظار کی گاڑی پر حملہ کیا گیا۔

دوسری جانب انتظار احمد کے والد نے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کردی۔

اپنے گھر پر پریس کانفرنس کے دوران انتظار احمد کے والد اشتیاق احمد کا کہنا تھا کہ پولیس نے ہمیں نہیں بتایا کہ فائرنگ اے سی ایل سی کی جانب سے کی گئی، ہمیں میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کہ فائرنگ انہوں نے کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اشارے پر نہیں رکتا تو کیا اسے گولیاں مار کر قتل کردیا جاتا ہے، اس ملک میں کیا جنگل کا قانون رائج ہے۔

مقتول انتظار احمد کے والد کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے 4 گھنٹے بعد تک کوئی رابطہ نہیں کیا، ہماری ایف آئی آر بھی درخواست دینے کے بعد درج کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے پولیس سے کوئی امید نہیں ہے، چیف جسٹس آف پاکستان مجھے انصاف دلا سکتے ہیں۔

اپنے بیٹے کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 19 سالہ انتظار احمد ان کا اکلوتا بیٹا تھا اور وہ 29 نومبر کو ملائیشیا سے چھٹیوں پر واپس آیا تھا جبکہ وہ اے اور او لیول مکمل کرچکا تھا اور اس کی کوئی سیاسی وابستگی بھی نہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا نوٹس

مقتول انتظار کے والد کی پریس کانفرنس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی)، ڈی آئی جی ساؤتھ اور ایس ایس پی ساؤتھ سمیت دیگر پولیس حکام کو طلب کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی:دودریا میں حادثے کے بعد فائرنگ سے نوجوان جاں بحق

ایڈیشنل آئی جی کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دی گئی کہ واقعے کی شفاف تفتیش کی جارہی ہیں اور اے سی ایل سی کے اہلکار اور ایس ایچ او کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ قتل کی ایف آئی آر والد کی مدعیت میں درج کی جاچکی ہے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مجھے انتظار کے قاتل چاہیے، اس واقعے میں جو بھی پولیس اہلکار ملوث ہو اسے فوری گرفتار کیا جائے۔

ادھر پولیس کی جانب سے والد کی مدعیت میں درخشاں تھانے میں انتظار کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تاہم اس مقدمے میں کسی اے سی ایل سی اہلکار کو نامزد نہیں کیا گیا بلکہ نامعلوم ملزمان کے خلاف یہ مقدمہ درج کیا گیا۔