حدیبیہ پیپرز ملز: سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف نیب کی نظر ثانی درخواست

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2018

ای میل

قومی احتساب بیورو ( نیب) نے شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس دوبارہ کھولنے کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کردی۔

نیب کی جانب سے 40 صفحات پر مشتمل نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں سپریم کورٹ کے 15 دسمبر کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا۔

اس حوالے سے خصوصی پروسیکیوٹر عمران الحق کی جانب سے ڈرافٹ تیار کیا گیا، نظر ثانی کی درخواست میں کہا گیا کہ فیصلے کے پیرا گراف 6، 23، 27 اور 32 پر نظرثانی کی جائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ اپیل پر زائد المعیاد ہونے کا قدغن ختم کیا جائے، تفصیلی فیصلے میں نقائص ہیں لہٰذا فریقین کو نوٹس جاری کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا، سپریم کورٹ

یاد رہے کہ گزشتہ برس 10 نومبر کو حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق نیب کی اپیل پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا 3 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔

تاہم 13 نومبر کو حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کی سماعت سے قبل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس کیس کی سماعت کے لیے تشکیل کیے گئے بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کر لی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: حدیبیہ پیپرز ملز کیس: عدالت کی نیب کو مزید دلائل دینے کی ہدایت

بعدِ ازاں اس کیس کی سماعت کے لیے بینچ دوبارہ تشکیل کرنے کا معاملہ واپس چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے جسٹس مشیر عالم، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم خان میاخیل پر مشتمل تین رکنی بینچ تشکیل دیا جس نے 28 نومبر کو اس کیس کی سماعت کی۔

خیال رہے کہ 15 دسمبر 2017 کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف دائر حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کو دوبارہ کھولنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے اسے مسترد کردیا تھا۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور اسحٰق ڈار کے خلاف نیب نے ایک ارب 20 کروڑ روپے بد عنوانی کے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس 17 برس قبل سَن 2000 میں دائر کیا تھا، تاہم 2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے یہ ریفرنس خارج کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا تھا کہ نیب کے پاس ملزمان کے خلاف ثبوت کا فقدان ہے۔

مزید پڑھیں: حدیبیہ کیس میں کب کیا ہوا؟ مکمل جائزہ

پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کیس کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو حدیبیہ پیپر ملز کیس کا ریکارڈ جمع کرایا تھا، جس میں 2000 میں اسحٰق ڈار کی جانب سے دیا جانے والا اعترافی بیان بھی شامل تھا۔

اسحٰق ڈار نے اس بیان میں شریف خاندان کے کہنے پر ایک ارب 20 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کرنے اور جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے کا مبینہ اعتراف کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنے اس بیان کو واپس لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ بیان ان سے دباؤ میں لیا گیا۔