قصور میں 6 سالہ بچی زینب کو ریپ کے بعد قتل کیے جانے کے واقعے پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کیس کی پہلی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ میں اس حوالے سے چلنے والے از خود نوٹس کیس کی سماعت کو روک دیا اور تمام تحقیقاتی ٹیموں کو سپریم کورٹ طلب کرلیا۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے زینب قتل از خود نوٹس کیس پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ انسپیکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب مصروفیت کے باعث پیش نہیں ہو سکے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے ہی کہا تھا کہ اگر آئی جی صاحب مصروف ہیں تو کسی اور کو بھیج دیں'۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ اگر تحقیقات جاری ہیں تو بیان چیمبر میں بھی بتا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: زینب قتل کیس: عدالت میں ڈی جی فرانزک اور پولیس کی رپورٹ پیش

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے بعد ہر معاملہ سپریم کورٹ میں آتا ہے اور بہت سے لوگ ناقص تفتیش پر بری ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں سے پولیس رہنمائی نہیں لیتی، ہر کیس میں وہی غلطیاں کی جاتی ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے اس کیس سے متعلق لاہور ہائیکورٹ میں چلنے والے از خود کیس کی سماعت کو روکتے ہوئے کہا کہ عدالت عالیہ کے پاس ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: زینب قتل: نئی فوٹیج سے مجرم کو پکڑنے کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ زینب کے ساتھ ریپ اور اسے قتل کرنے والا شخص سیریل کلر ہے اور ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ ملزم گرفتار ہوگا۔

ایڈیشنل آئی جی کی جانب سے عدالت میں گرفتاری کا وقت بتانے سے گریز کرنے پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں نہیں چاہتا کہ بندہ پکڑا جائے اور مقابلے میں مارا جائے لیکن اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو پولیس اور حکومت کی ناکامی ہو گی جس کی وجہ سے آئی جی کو گھر بھی جانا پڑ سکتا ہے۔

سرکاری وکیل نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ اب تک 1100 مشکوک افراد کے خلاف تحقیقات ہوئیں جن میں سے 400 افراد کے ڈی این اے بھی لیے گئے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے سماعت کو 21 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے پنجاب فرانزک کے سربراہ سمیت تمام تحقیقاتی ٹیم کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

مزید پڑھیں: زینب قتل: 227 افراد سے تفتیش، 64 ڈی این اے ٹیسٹ کا مشاہدہ

خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں زینب قتل از خود نوٹس کیس کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سمیت جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے قصور واقعے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی تھی۔

بعد ازاں آئی جی پنجاب کی جانب سے عدالت عالیہ میں زینب قتل کے حوالے سے رپورٹ جمع کرائی تھی۔

ڈی جی فرانزک کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ زینب قتل کیس میں ڈی این اے میچ کرگیا جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ واقعہ سیریل کلنگ کا ہے۔

چیف جسٹس نے عدالت میں سوال کیا کہ زیادتی کا پہلا واقعہ کب ہوا جس پر ڈی جی فرانزک کا کہنا تھا کہ پہلا واقعہ جون 2015 میں رپورٹ ہوا تھا۔

قصور میں 6 سالہ زینب کا قتل

صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں 4 جنوری کو 6 سالہ بچی زینب کو اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن جاتے ہوئے اغوا کرلیا گیا تھا۔

جس وقت زینب کو اغوا کیا گیا اس وقت اس کے والدین عمرے کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودی عرب میں تھے جبکہ اہل خانہ کی جانب سے زینب کے اغوا سے متعلق مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

5 روز بعد 9 جنوری کو ضلع قصور میں شہباز خان روڈ پر ایک کچرے کے ڈھیر سے زینب کی لاش ملی تو ابتدائی طور پر پولیس کا کہنا تھا کہ بچی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: زینب قتل: لاہور ہائی کورٹ کا ملزم کو 36 گھنٹے میں گرفتار کرنے کا حکم

بعد ازاں پولیس کی جانب سے بچی کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا گیا تھا، جس کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کردیا گیا تھا تاہم یہ بھی اطلاعات تھی کہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی تھی، جس میں ننبھی بچی کو ایک شخص کے ساتھ ہاتھ پکڑ کر جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا جبکہ پولیس نے اس ویڈیو اور اہل علاقہ کی مدد سے ملزم کا خاکہ بھی جاری کیا تھا۔

دوسری جانب زینب کے قتل کے بعد سے قصور شہر کی فضا سوگوار رہی اور ورثا، تاجروں اور وکلا کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور فیروز پور روڈ بند کردیا۔

اس واقعے میں شدت اس وقت دیکھنے میں آئی جب اہل علاقہ نے مشتعل ہو کر ڈی پی او آفس پر دھاوا بول دیا اور دروازہ توڑ کر دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: زینب قتل کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ تبدیل

اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی تھی جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

10 جنوری کو بچی کے والدین عمرے کی ادائیگی کے بعد پاکستان پہنچے اور انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف سے ننھی زینب کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی۔

بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے زینب کے گھر کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے مجرموں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی تھی۔