افسانہ ’نکاح‘

اپ ڈیٹ 18 جنوری 2018

ای میل

یہ اُس کا تیسرا گلاس تھا، میں جانتا ہوں وہ ایک بوتل پی کر بھی مدہوش نہیں ہوتا لیکن آج وہ بالکل مدہوش لگ رہا تھا، جیسے وہ بالکل ٹوٹا ہوا ہو۔ پچھلے چند دنوں سے میں اُس میں واضح تبدیلی دیکھ رہا تھا، میں اُس سے پوچھنا چاہ رہا تھا۔

لیکن دل ہی دل میں ڈر بھی رہا تھا کہ کوئی ایسی بات نا ہو جس کا تعلق مجھ سے ہو، حالانکہ مجھے یقین تھا ایسی کوئی بات نہیں ہوسکتی کیونکہ ہم آپس میں بہت بے تکّلف تھے اور شاید میرے ڈر کی وجہ بھی یہی تھی، کیونکہ وہ بنا پوچھے ہر بات بتا دیتا تھا کبھی بھی مجھے اُس سے کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی، لیکن اُس دن مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ مجھ سے کوئی بات چُھپا رہا تھا۔

اُس کی آنکھوں سے لگ رہا تھا جیسے کہ وہ ابھی رو دے گا، وہ زندگی سے بھرپور انسان جسے میں نے ہمیشہ مذاق کرتے اور ہنستے دیکھا تھا، آج کچھ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی طوفان میں اپنے برباد ہونے والے گھر کے ملبے پر بیٹھا ہے۔ وہ کچھ دن پہلے ہی آسٹریلیا سے واپس آیا تھا، وہاں وہ میلبورن یونیورسٹی سے ایم بی اے کرنے کے بعد ایک بینک میں ملازم تھا۔

وہ ایک اچھی زندگی گزار رہا تھا، وہاں کسی لڑکی کے ساتھ live in relation میں تھا دونوں کی اچھی گزر رہی تھی پھر اچانک وہ سب چھوڑ کر پاکستان آگیا۔

وہ کسی کو ڈھونڈ رہا تھا، اپنی کسی گرل فرینڈ کو۔

اُس کی بہت سی پرانی فرینڈز تھیں۔ مجھے تو بس اُن میں سے ایک ہی اچھی طرح یاد تھی ’معصومہ‘۔

وہ اُس کے پیچھے پاگل ہوئی جاتی تھی، لیکن یہ اُسے باقی لڑکیوں سے کم ہی اہمیت دیتا تھا، مجھے زیادہ تو نہیں معلوم، ہاں لیکن یہ ضرور یاد ہے وہ اُس لڑکی سے بہت مشکل سے جان چھڑوا کر آسٹریلیا گیا تھا۔

تو اب کیا چیز تھی جو اُسے اُس کو تلاش کرنے پر مجبور کر رہی تھی؟

رات کا وقت تھا، ہوا میں خنکی تھی ہم آگ کے آلاؤ کے پاس بیٹھے روز کی طرح سارا دن سڑکوں پر پھرنے کے بعد واپس اپنے ٹھکانے پر آگئے تھے۔

کونے پر پڑی شراب کی خالی بوتلیں ہماری عادت کا پتہ دے رہی تھیں۔

زارون اب باقائدہ رو رہا تھا، اُس نے خود ہی بولنا شروع کیا۔

’اس میں میرا کوئی قصور نہیں، میرا کیا قصور ہے؟ میں تو اپنے راستے جا رہا تھا۔‘

مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا، بس اتنا اندازہ ہوا کہ وہ کچھ بولنا چاہ رہا تها، میں انتظار کر رہا تھا کہ وہ بات آگے بڑھائے۔

’پرسوں جب میں شام میں گھبرایا ہوا واپس آیا۔‘

ہاں ہاں! مجھے یاد ہے۔ تمہیں بخار ہوگیا تھا اور ساری رات نیند میں تم کچھ بڑ بڑا رہے تھے، کسی بچے کے بارے میں بھی کچھ بول رہے تھے، میں نے بات آگے بڑھائی۔

’شام کے وقت میں معصومہ کو دیکھنے اُس کے پرانے گھر گیا تھا۔ کافی تیز بائک چلا رہا تھا۔ سڑک کنارے ایک بچہ سائکلنگ کر رہا تھا، تو میں نے شرارتاً ہارن دے دیا، بچہ اچانک گھبرا کر روڈ کے بیچ میں آگیا، میں نے بریک لگائی لیکن مجھے دیر ہوچکی تھی اور میری بائک سیدھا اُس بچے سے ٹکرائی اور وہ وہیں گرگیا۔ میں اُسے دیکھنے کے لیے وہاں رُکا، مگر دور سے کوئی آدمی دوڑا آ رہا تھا، میں گھبرا گیا اور بائک بھگا لایا، وہ بچہ خون میں لتھڑا پڑا تھا، اُس کا بچنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔‘

زارون بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا، وہ مضبوط اعصاب کا مالک انسان تھا، اُسے میں نے کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا۔

’میں اُسے وہیں چھوڑ کر چلا آیا، اُسے مڑ کر بھی نہیں دیکھا میں گھبرا گیا تھا۔‘

تمہیں کسی نے دیکھا تو نہیں؟ میرے پوچھنے پر اُس نے بتایا، ’نہیں میں نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا، بائک بھی نمبر پلیٹ کے بغیر تھی۔‘

میں نے ہمت کرکے اُس سے وہ سوال کرنے کا فیصلہ کرلیا جو کئی دنوں سے میرے دماغ میں اٹکا ہوا تھا۔

زارون یار تو اچھا بھلا آسٹریلیا میں سیٹل تھا تو واپس کیوں آگیا؟

میں سوچ رہا تھا وہ میری بات کو ٹال دے گا۔

ہر کسی کو ایک ہمدرد اور مخلص دوست کی ضرورت ہوتی ہے، ہم لوگوں سے اُن کی پریشانی کی وجہ پوچھتے ہوئے تو کتراتے ہیں لیکن خوشی کی وجہ پوچھتے ہوئے نہیں، ہم یہ سوچتے ہیں شاید یہ اُن کا کوئی نجی معاملہ ہو، دراصل جس کا معاملہ ہوتا ہے وہ مُنتظر ہوتا ہے کہ کوئی اُس سے کچھ پوچھے تو میں اپنے دل کی بات رکھوں، لیکن ہم پہل کرنے سے کتراتے ہیں۔

میرا پوچھنا تھا کہ زارون کی آنکھیں جو پہلے ہی رو رو کر لال پڑی تھیں، اُن میں پھر سے آنسو آگئے.

’تمہیں یاد ہے میری ایک دوست ہوتی تھی معصومہ؟‘ اُس نے بات کا آغاز کیا اور میں چُپ کرکے سُنتا رہا۔

’مجھے اُس سے محبت ہوگئی ہے یا شاید عشق!‘

لیکن تمہیں تو اُسے چھوڑے 12 سال ہوچکے ہیں، میں نے حیرانی کا اظہار کیا۔

’ہاں مجھے یاد ہے، میری زندگی اچھی بھلی چل رہی تھی۔ میرا کوئی ارادہ بھی نہیں تھا واپس آنے کا۔ ایم بی اے کرنے کے بعد آسٹریلیا میں اچھی ملازمت مل گئی اور ایک انڈین لڑکی کے ساتھ رہ رہا تھا، پچھلے برسوں کے دوران ہم میں اچھی انڈر اسٹینڈنگ بھی ہوگئی تھی، لیکن 3 ماہ سے کوئی پل ایسا نہیں گزرا جب وہ میرے دل و دماغ سے نکلی ہو، میں تو اُسے بھول ہی چکا تھا، میرے پاس اُس سے رابطے کے جو بھی ذرائع تھے، سب ڈیلیٹ کر دیے تھے، اب مجھے اُس کے ساتھ گزارا ایک ایک پل یاد آ رہا ہے، میں اُس سے ملنا چاہتا ہوں، بات کرنا چاہتا ہوں، مجھے معصومہ چاہیے۔‘

وہ جیسے دیوانہ ہوا جا رہا تھا، اُس کی حالت دیکھ کر میں پریشان ہوگیا، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

’تمہیں پتہ ہے علی وہ میرے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی تھی، اُس کے باوجود مجھے پاگلوں کی طرح چاہتی تھی۔ مجھے یاد ہے وہ میرے کاندھے پر سر رکھ کر کئی گھنٹوں باتیں کرتی رہتی تھی اور میں اُس کی باتیں سنتے سنتے اکثر سوجایا کرتا تھا۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، ہم ملتے تھے، باتیں کرتے تھے، اور محبت بھری راتیں گزار دیتے تھے۔‘

اُس کی نم آنکھوں میں ایک عجیب چمک اتر آئی تھی۔

’مگر ایک دن پتہ نہیں اُسے کیا ہوا، وہ نکاح کرنے کی ضد کرنے لگی، پہلے کئی ماہ میں اُسے ٹالتا رہا لیکن وہ پاگل ہوئی جا رہی تھی۔ مجھے وہ رات آج بھی یاد ہے، اُس رات کا ایک ایک لمحہ میں نے اُس کے ساتھ گزارا۔ وہ بکھرے بالوں کے ساتھ میرے سینے پر سر رکھے باتیں کررہی تھی اور میں سگریٹ پیتے اُس کی باتیں سُن رہا تھا کہ وہ اچانک رونے لگی، میں اُس کی باتیں سُن تو رہا تھا لیکن میرا سارا دھیان اُس کے بدن کو محسوس کرنے میں لگا ہوا تھا۔ معصومہ نے رونا شروع کیا تو میں ڈرسا گیا۔ سِسکیوں بھری آواز میں وہ مجھ سے پوچھ رہی تھی زارون تم مجھ سے نکاح نہیں کرنا چاہتے نا؟ میں ڈر گیا تھا کہ اُس کے سوال کا کیا جواب دوں؟‘

زارون کی پیشانی پر شکن عیاں تھے۔

’میں نے بول دیا کیوں نہیں کروں گا۔ وہ میرے سامنے بیٹھ گئی، میرے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے مجھ سے پوچھ رہی تھی۔ قسم کھا کر بولو، میری قسم کھاؤ؟ وہ کتنی بیوقوف تھی۔ اُسے لگتا تھا مجھے اُس کی فکر ہے اور میں اُس کی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا۔ میں نے تھوڑا سوچنے کے انداز میں آسمان کی طرف دیکھا اور جواب دیا، پکّا، تمہاری قسم میں تُم سے ہی نکاح کروں گا۔‘

زارون نے اپنے خالی ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،

’پھر کچھ دن بعد ہم نے نکاح کرلیا۔ میرے لیے نکاح کسی کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں تھا اور نہ ہی اُس کے بارے میں میرے خیالات تبدیل ہوئے تھے۔ نکاح کے کچھ دن بعد میرا میلبورن یونیورسٹی میں داخلہ ہوگیا اور میں یہاں سے چلا گیا۔ پہلے پہل ہماری بات ہوتی تھی، پھر میں نے اُسے نظر انداز کرنا شروع کردیا اور کچھ ہی دنوں میں ہمارا رابطہ ختم ہوگیا۔‘

تو اب کیا مسئلہ ہے؟ تمہیں اُس سے محبت ہے یا وہ ’نکاح‘ جو تم نے اس سے کیا تھا؟، میں نے پوچھا۔

’مجھے نہیں پتہ وہ میرے اعصاب پر سوار ہوگئی ہے، تمہیں پتہ ہے میں نے سب کچھ گنوا دیا ہے، اپنی ملازمت، اپنا گھر، اپنی گرل فرینڈ جس کے ساتھ چار سال ایک چھت تلے گزارے تھے۔‘

زارون کسی چھوٹے بچے کی طرح معصوم لگ رہا تھا، یہ زارون اُس زارون سے بالکل مختلف تھا جو ناپ تول کر بات کرتا، اور اُس کی باتوں کے سحر میں کوئی بھی بڑی آسانی سے جکڑ جاتا تھا۔

اب کا زارون ٹوٹا ہوا زارون تھا۔

’گزشتہ دو ماہ سے میں لگاتار فزیولوجسٹ کے پاس جا رہا ہوں، نیند کی گولیاں کھائے بغیر مجھے نیند نہیں آتی۔‘

اُس نے بڑی ہی بے چارگی کے لہجے میں کہا

’علی میں ٹوٹ گیا ہوں۔‘

وہ بے حد مضطرب تھا، میرا دل ڈوبا جا رہا تھا، اُسے کہیں کچھ ہو نہ جائے۔

میں نے بات بدلنے کی کوشش کی اور اُسے کہنے لگا کہ ہاں وہ بچہ جو اُس دن تمہاری بائک سے ٹکرایا تھا، وہ سلامت تو ہے نا؟ صبح ہم اُس کے پاس جائیں گے ہسپتال، اب سو جاؤ رات بہت ہوگئی ہے۔

نیند نے میری آنکھوں کو دستک دی اور لیٹتے ہی مجھے نیند آگئی۔ صبح 10 بجے کے قریب میری آنکھ کُھلی تو زارون ویسے ہی چیئر پر بیٹھا تھا، میں نے اُس سے کچھ نہیں پوچھا۔

ناشتے کی ٹیبل پر اُس کا سب سے پہلا سوال یہی تھا۔

’وہ بچہ جو میری بائک سے ٹکرایا تھا کس ہسپتال میں ہے؟‘

میں نے اُسے بتایا تو وہ فوراً اُٹھ کھڑا ہوا۔

’نیشنل ہسپتال وہی ہے نا جو شاہ فیصل کالونی میں ہے؟‘

ہم وہاں پہنچے تو بچے کو ڈھونڈنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ اُس کے سر اور بازو میں کافی چوٹ آئی تھی۔ زارون اُس کے پاس بیٹھے باتیں کرنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں ایک آدمی اندر داخل ہوا۔ اُس کے ہاتھ میں دوائیاں تھیں لیکن وہ آدمی کافی بوڑھا تھا، میں نے سوچا کہ اُس کا باپ تو نہیں ہوسکتا اُس بچے کا دادا ہوگا۔‘

اُس آدمی نے ہسپتال میں بچے سے ملنے کا سبب پوچھا تو زارون نے سب تفصیل سے بتا دیا، مگر اُس آدمی نے کچھ بھی نہیں بولا نہ وہاں سے بھاگنے کی وجہ پوچھی اور نہ ہمیں ڈانٹا۔

ہسپتال سے نکلنے کے بعد ہم نے معصومہ کی تلاش شروع کردی، ہم نے اُن سب جگہوں کے چکر لگا لیے تھے، جہاں معصومہ مل سکتی تھی لیکن ہمیں اُس کا کہیں پتہ نہیں چلا۔

اُس کی تلاش کو چند دن گزرچکے تھے، ساتھ ہی ساتھ زارون ہر دن معصومہ کی ناکام تلاش کے بعد اکثر شام کو ہسپتال جاکر اُس بچے سے ملا کرتا تھا، جب بھی بچے سے ملتا تو ایک عجیب سا سکون زارون کے چہرے پر عیاں ہوتا تھا۔ ایک دن میں نے مذاقاً زارون سے کہہ دیا کہ مجھے لگتا ہے وہ مرچکی ہے، وہ دن اور وہ شام اُس نے کرب میں گزاری تھی، میں خود کو کوسنے لگا تھا کہ میں نے ایسے الفاظ ہی کیوں بولے، اُس شام اور اُس شب میں نے اُسے تڑپتے دیکھا، اُس کی حالت پر مجھے بہت ترس آرہا تھا۔

لیکن حقیقت یہی تھی کہ ہم معصومہ کی تلاش میں پوری طرح سے ناکام ہوچکے تھے۔ ہم نے ہسپتال جانا اپنا روٹین بنالیا تھا، وہاں وہ اُس بچے کے ساتھ باتیں کرکے اپنا وقت کاٹ لیتا تھا۔

ہسپتال والوں نے بچے کو ڈسچارج کردیا تھا، بے قرار زارون کی ضد کرنے پر وہ بزرگ اِس بات پر راضی ہوگئے تھے کہ ہم اُنہیں گھر تک چھوڑ دیں۔

دو کمروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گھر تھا، مجھے اِس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ اُس گھر میں کوئی بھی عورت نہیں ہے۔

مجھے یاد آیا کہ ایک بار پوچھنے پر بزرگ نے بتایا تھا کہ یہ بچہ یتیم ہے۔ زارون اُس بچے کو اُٹھائے دوسرے کمرے میں چلا گیا، وہ شاید اُن کا بیڈروم تھا، کچھ دیر بعد میں بھی وہاں چلا گیا۔ زارون اُس بچے کو گلے لگائے رو رہا تھا۔

میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اور اُن دونوں کو اکیلا چھوڑنا مناسب سمجھا۔ میں کمرے سے نکلنے کے لیے واپسں مُڑا تو دیوار پر ایک تصویر ٹنگی دیکھ کر میرے دل کی دھڑکن جیسے رُک سی گئی۔ ہاں وہ، وہ ہی تھی جس کی تلاش میں ہم نے پورا شہر چھان مارا، وہ ’معصومہ‘ تھی، اور یہ بچہ زارون کا اپنا خون تھا۔

میں کمرے سے باہر چلا آیا۔ وہ بزرگ جو ابھی باہر ہی تھے گھر میں داخل ہوئے تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں اُن سے پوچھنے ہی والا تھا کہ زارون کمرے سے باہر آگیا۔

وہ بہت بے چینی سے اُن سے معصومہ کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ اُن کی آنکھیں بھر گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا وہ اِس بچے کی پیدائش کے وقت مرگئی تھی۔

زارون زمین پر گِر پڑا، اُسے کوئی ہوش نہیں تھا۔

کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں، جن پر ہم یقین نہیں کرنا چاہتے لیکن ہمارے یقین نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

زارون اور اُس کی بیوی کی قبر پر فاتحہ خوانی کرتے ہوئے میرے ذہن میں یہی بات چل رہی تھی۔