لیبیا: دو بم دھماکوں میں 27 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2018

ای میل

بن غازی: شمالی افریقہ کی ریاست لیبیا کے شہر بن غازی میں 2 کار بم دھماکوں میں 27 افراد ہلاک جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں حملہ آروں نے مسجد سے نکلنے والے نمازیوں کو نشانہ بنایا۔

بن غازی میں لیبیا کی فوج اور پولیس کے ترجمان کیپٹن طارق الخراز نے بتایا کہ پہلا کار دھماکا سلمانی کے علاقے میں ہوا جہاں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی لوگوں نے جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا اور وہاں لوگ جمع ہوئے تو دوسرا دھماکا ہوگیا۔

مزید پڑھیں: معمر قذافی کے بیٹے کی 5 سال بعد رہائی

صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی اہلکار ہانی بیلراس علی نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اب تک دھماکوں میں 27 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے جبکہ اس میں 32 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں کی اب تک کسی بھی تنظیم کی جانب سے ذمہ دار قبول نہیں کی گئی، تاہم بن غازی دھماکوں کے نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اقوامِ متحدہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ کی مدد سے بن غازی میں ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں پر براہ راست حملے کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی میں شامل ہیں اور ان کا شمار جنگی جرائم میں کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ لیبیا میں ایک طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کی 2011 میں ہلاکت کے بعد ملک میں انتشار کی فضا میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: لیبیا کے تارکین وطن کے استحصال میں یورپی ممالک ملوث

تاہم 2014 کے بعد سے لیکر اب تک لیبیا کے مغربی اور مشرقی حصوں میں حکومتی سطح پر ہی تنازعات برقرار ہیں جنہیں مختلف عسکریت پسندوں اور قبائل کی حمایت بھی حاصل ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا کے کئی علاقوں میں شدت پسند تنظیم داعش کا بھی کنٹرول ہے۔

یار رہے کہ بن غازی کا شمار لیبیا کے ایسے شہروں میں ہوتا ہے جہاں پر اکثر بم دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔