اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مفتی عبدالستار نے خواجہ سراؤں کی شناخت کے حوالے سے اسلامی نظریات کونسل (سی آئی آئی) کی پیش کردہ سفارشات پر اعتراض اٹھایا ہے کہ ان سے مذہبی نوعیت کے مسائل جنم لیں گے۔

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں خواجہ سراؤں کے تحفظ حقوق بل 2017 کے تحت خواجہ سراؤں کی شناخت سے متعلق بحث ہوئی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر روبینہ خالد نے ایوان کو بریفنگ دی۔

یہ پڑھیں: خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق بل کا مسودہ تیار

انہوں نے کہا کہل یہ بل وضاحت پیش کرتا ہے کہ خواجہ سرا کی شناخت کے لیے ان سے میڈیکل ٹیسٹ رپورٹ کا تقاضہ نہیں کیا جائے گا، وہ وراثتی طورپر خواجہ سرا ہیں۔

واضح رہے کہ جب خواجہ سرا کی جانب سے وراثتی جائیداد میں سے حصے کا مطالبہ ہوتا ہے تو وہ طبی بورڈ سے میڈیکل سرٹیفیکیٹ پیش کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔

وراثتی جائیداد میں سے مرد کے مقابلے میں عورت کا نصف حصہ ہونے کی وجہ سے خاتون خواجہ سرا پر بھی میڈیکل سرٹیفیکٹ حاصل کرنا لازم ہے۔

سینیٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ ‘سی آئی آئی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ خواجہ سرا اپنی شناخت جس طرح ظاہر کرے اسے تسلیم کرلیا جائے تاہم اگر شناخت سے متعلق کسی بھی قسم کی شکایت ہو تو اس صورت میں معاملہ حتمی فیصلے کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے’۔

روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی خواجہ سرا کی حیثیث سے تسلیم کرنے میں طبی معائنہ ضروری نہیں ہونا چاہیے اس سے مسائل میں اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں خواجہ سراؤں کی تعداد کتنی؟

انہوں نے وضاحت دی کہ ‘ اس طرح انہیں خواجہ سرا کا درجہ حاصل کرنے میں بلیک میل کیے جانے کا بھی امکان ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘کسی مرد یا عورت کو اپنی جنسی شناخت کے لیے کسی میڈیکل رپورٹ کی ضرورت نہیں پڑتی تو پھر خواجہ سرا کو میڈیکل رپورٹ کی کیوں ضرورت ہے جس میں تحریر ہو کہ وہ مرد یا خاتون خواجہ سرا ہے’۔

سی آئی آئی کے ڈائریکٹر جنرل ریسرچ ڈاکٹر انعام اللہ نے بتایا کہ ‘کونسل اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ خواجہ کی شناخت اسی طرح تسلیم کی جائے جس طرح ان کے والدین کا خیال ہے لیکن اگر وہ اپنے گھروں سے بے دخل کردیے گئے ہیں تو ان کی شناخت ‘ان کے بیان’ کے مطابق تسلیم کی جائے’۔

اس ضمن میں انہوں مزید بتایا کہ ‘اگر کوئی مسئلہ جنم لیتا ہے تو عدالت ان کی حیثیت کا فیصلہ کرے۔ سی آئی آئی کی سفارشات پر بل میں ترمیم ہونی چاہئے تاہم یہ بھی عبوری سفارشات ہیں لہٰذا 8 فروری کو منعقد ہونے والے اجلاس میں مذکورہ موضوع زیر بحث ہوئے گا’۔

سینیٹر روبینہ خالد نے سی آئی آئی کے حکام سے اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کی تجویز کردہ سفارشات کو بل میں شامل کیا جائے گا۔

سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ ڈاکٹر انعام اللہ کی سفارشات 8 فروری کو سی آئی آئی میں توثیق کے بعد بل کا حصہ بنا لی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: پشاور میں خواجہ سرا کی تشدد زدہ لاش برآمد، پولیس

بعدازاں، جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر مفتی عبدالستار نے اختلاف رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ سراؤں کی شاخت کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے تاکہ ان کی جنس کا تعین ہو سکے بصورت دیگر مذہبی نوعیت کے مسائل پیدا ہوں گے۔

انہوں نے وضاحت پیش کی کہ ‘خواجہ سراؤں میں مرد اور خاتون کی تشخیص واضح ہونی چاہیے ورنہ اسلامی شریعہ کے مسائل سامنے آئیں گے، خاتون خواجہ سرا ہونے کی صورت میں مرد کے مقابلے میں اس کی گواہی عدالت میں نصف ہو گی اور اسی طرح وراثتی حصے کا بھی معاملہ ہے’۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ ‘آج کل مرد خواتین کے لباس اور خواتین مردوں کے لباس زیب تن کرتے ہیں اور یوں خواجہ سرا میں مرد اور عورت کے مابین بظاہر تفریق کی کوئی لکیر نظر نہیں آتی۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سی آئی آئی کے اگلے اجلاس میں مذکورہ بل پر بحث کی جائے گی ۔

صحافی کے اغوا کی کوشش

پی پی پی سینیٹر فرحت اللہ بابر کی سفارش پر سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے فیصلہ کیا کہ سیکیورٹی ایجنسیوں سے طلحہٰ صدیقی کو اغوا کے حوالے سے تفصیلی جواب طلب کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ صحافی طلحٰہ صدیقی نے کہا تھا کہ انہیں مسلح افراد نے اسلام آباد میں 11 جنوری کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ وہ ایئر پورٹ کی جانب جارہے تھے کہ اغوا کاروں نے انہیں اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی اور اسی دوران ان کا لیپ ٹاپ کمپیوٹر، موبائل فون، ہارڈ ڈرائیو، پاسپورٹ اور دیگر اشیا بھی لوٹ لی گئیں تھیں لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

اس حوالے سے پڑھیں: جبری گمشدگیوں پر نیا کمیشن بنانے کا مطالبہ

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ‘اگرچہ ایسے کیسز کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی لیکن کمیٹی پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو بلا کر پوچھے تا کہ انہیں احساس ہو کہ کسی نے تو واقعہ پر نوٹس لیا’۔

کمیٹی کے چیئرمین نے فیصلہ کیا کہ پولیس کو اس معاملے پر وضاحتی نوٹس بھیجا جائے گا اور اگلے اجلاس میں مسئلے پر دوبارہ بات ہوگی۔


یہ خبر 25 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی