پولیس کا راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد میں چھاپہ

ای میل

سپریم کورٹ کی جانب سے سابق سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) راؤ انوار کی نقیب اللہ محسود قتل کیس میں گرفتاری کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد پولیس نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تاہم وہاں سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

.فوٹو بشکریہ: شکیل قرار
.فوٹو بشکریہ: شکیل قرار

اسلام آباد پولیس کے مطابق سیکٹر ایف 10/4 میں راؤ انوار کی رہائش گاہ پر کراچی پولیس کی ٹیم کی جانب سے چھاپہ مارا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ کے باہر ان کے مطلوب ہونے کا پوسٹر بھی آویزاں کردیا گیا ہے۔

کراچی پولیس نے اشتہار میں رابطہ نمبر درج کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'راؤ انوار کراچی میں پی ایس سچل میں درج ایف آئی آر کے تحت مطلوب ہیں اس لیے کسی کو ان کے حوالے سے کوئی معلومات ہوں تو ایس ایس پی انوسٹی گیشن ملیر عابد قائم خانی سے رابطہ کریں'۔

علاوہ ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر راؤ انوار کے سر کی 50 لاکھ روپے قیمت کا اعلان کرنے والے شخص کو راولپنڈی سے کراچی منتقل کرتے ہوئے دو روزہ پولیس ریمانڈ میں دے دیا گیا۔

مزید پڑھیں: نقیب اللہ قتل کیس: انوسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

اس ریمانڈ کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سلیمان بیگ کی جانب سے دیا گیا۔

کوئی ملزم قانون سے طاقتور نہیں

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ نقیب اللہ کیس میں ایک انکوائری کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے 48 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ جمع کرائی اور اس رپورٹ میں دی گئی تجاویز پر عمل کیا جارہا ہے۔

کراچی میں یورپین یونین کے تعاون سے سندھ میں بہتر غذا پروگرام کی افتتاحی تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک سوال پر وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ راؤ انوار کہاں چھپے ہوئے ہیں اس کا مجھے علم نہیں ہے لیکن مجھے معلوم ہے کہ کوئی بھی ملزم قانون سے زیادہ طاقتور نہیں ہوسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ماورائے عدالت قتل‘ ازخود نوٹس: 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ تیار

انھوں نے مزید کہا کہ پولیس راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور تمام صوبائی حکومتوں اور ایجنسیوں کو اس سے حوالے سے مدد کی درخواست بھی کردی گئی ہے۔

یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو 13 جنوری کو ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاص خیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔

سوشل میڈیا میں نقیب اللہ کے حوالے سے چلنے والی مہم کے بعد پورے ملک میں غم وغصہ ابھر آیا تھا اور احتجاج کیا گیا تھا اور پولیس کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی رپورٹ میں راؤ انوار کے مقابلے کو جعلی قرار دیا تھا۔