پورشے 718 کیمین کو آزمانے کی اصل جگہ ہے ریس ٹریک

718 کیمین اعلیٰ کارکردگی، بہترین سسپینشن اور ڈرائیونگ میں زبردست لطف دینے والی گاڑی ہے۔
اپ ڈیٹ فروری 17, 2018 07:24pm

پورشے پر جی ٹی ایس کا مطلب کمپنی کی بنائی ہوئی ایک سب سے زیادہ اسپورٹی گاڑی ہے.

718 بوکسٹر اور کیمین ماڈل سریز تو ابتدا سے ہی اسپورٹی تھے. پورشے 718 کیمین جی ٹی ایس گاڑی بھی اس میں شامل ہے، اس کار کا مطلب ہے اعلیٰ کارکردگی، بہترین سسپینشن اور ڈرائیونگ میں زبردست لطف دینے والی ایک گاڑی۔

اس گاڑی کو آزمانے کی بہترین جگہ ریس ٹریک ہے، اسی لیے کار ٹیسٹر کلاس آج اندلس کے اسکری ریس ریزورٹ آئے ہیں۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ جی ٹی ایس کیا کچھ کر سکتی ہے۔

ریس ٹریک پر یہ گاڑی کیا کمال دکھا سکتی ہے؟

کار ٹیسٹر کلاس بتاتے ہیں کہ گاڑیوں کے شوقین جو توقع کر رہے تھے کہ نئی کیمین جی ٹی ایس میں 6 سلینڈر انجن کی واپسی ہوگی، انہیں یہ سن کر تھوڑا افسوس ہوگا کہ پورشے نے اس 718 میں 2.5 لیٹر فلیٹ فور انجن ہی نصب کیا ہے۔

لیکن وہ اس کی وہی خاصیت بھی بتاتے ہیں کہ جو پورشے کے دیگر جی ٹی ایس ماڈلز میں نظر آتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ بہترین کارکردگی، نئی خصوصیات کی بھرمار اور آپشنل ایکسٹراز کی ایک طویل فہرست میں شامل تقریباً ہر قسم کا ڈرائیور اسسٹ موجود ہے۔

ریس ٹریک پر گاڑیوں کے ماہر نے تمام سیفٹی سسٹمز سوئچ آف کردیئے تھے، اس پر ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ اب میں گاڑی کے میکنیکل گرپ پر انحصار کرتے ہوئے اسے ڈرائیور کروں گا، جو کہ واقعی بہت شاندار ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ گاڑی کا ریسپانس زبردست ہے، جب اکسیلیریشن دی جائے تو گاڑی معمولی سی اوور اسٹرئنگ ہوتی ہے، جسے آسانی سے سنبھالا جاسکتا ہے اور دوسری طرح یہ سیٹنگز کسی لطف سے کم نہیں۔

کلاس نے یہ بھی بتایا کہ جی ٹی ایس ماڈلز کی سیریز میں عام طور پر بہترین اوور آل پیکج ہوتا ہے، جی ٹی ایس کو بڑے پیمانے پر دوبارہ ڈیزائن تو نہیں کیا گیا لیکن یوں کہا جاسکتا ہے کہ معقول انداز میں اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ جہاں نارمل کیمین اور بوکسٹرز بڑی خوبصورتی کے ساتھ سرپٹ موڑ کاٹ لیتی ہیں مگر وہاں جی ٹی ایس میں تمام اضافی گیجٹس کو استعمال کریں تو یہ ایک میل آگے تک نکل جاتی ہے، یہ گیجٹس عام طور پر مہنگے ہوتے ہیں اور اضافی طور پرشامل کیے جاتے ہیں۔

گاڑی کی دیگر خصوصیات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں ایڈاپٹو پی اے ایس ایم چیسی ہے جو کہ گاڑی کو 10 ملی میٹر تک نیچے کردیتی ہے، ڈائینامک ٹرانسمیشن بیئرنگز والا اسپورٹ کرونو پیکیج ہے اور الیکٹرانک ریئر ڈفرینشیل لاک کے ساتھ پورشے ٹارک ویکٹورنگ پلس سسٹم بھی نصب ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کیمین جی ٹی ایس میں ایک مڈ انجن ہے جو کہ ڈرائیور کے بالکل پیچھے چل رہا ہوتا ہے اور اس کے پیچھے ٹرانسمیشن ہے جو کہ بڑی حد تک کسی موٹر اسپورٹس کار جیسی ہے۔ فارمولا ون یا لے مینز کی تمام تر گاڑیوں میں مڈ انجن ہی نصب ہوتا ہے جو وزن کو برابر میں تقسیم کردیتا ہے، گاڑی کا پویٹ پوائنٹ بیچ میں ہونے سے گاڑی کو کافی اچھا بیلینس دیتا ہے۔

کلاس یہ بھی بتاتے ہیں کہ 718 کیمین اپنی 269 کلوواٹ قوت اور پی ڈی کے گیئربکس کے ساتھ مسافروں کو 4.3 سیکنڈ میں ہی 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر پہنچا دیتی ہے، اس کے جدید ترین 4 سلنڈر انجن کے ساتھ یہ 2 سیٹوں والی گاڑی 100 کلومیٹر میں صرف 8.2 لیٹر ایندھن خرچ کرتی ہے، اور قدرتی طور پر اس کا ایگزاسٹ سسٹم ماحول دوست نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورشے 718 کیمین جی ٹی ایس کی سب سے ممتاز خصوصیت اس کا اگلا ایپرن ہے، ہیڈ اور ٹیل لائٹس میں سیاہ رنگ کا استعمال اسے دکھنے میں مزید اسپورٹی بنا دیتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ پیچھے کی جانب سیاہ بیجنگ، اور دو ایگزاسٹ پائپس کے ساتھ سیاہ رنگ کے ڈیفیوژر کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ ایک اور دلکش چیز 20 انچ کے وہیلز ہیں، اور یہ بھی سیاہ رنگ کے ہیں۔

کلاس بتاتے ہیں کہ یہ 718 اپنی طرز کی سب سے زیادہ طاقتور گاڑی ہے، اس کے اندرونی حصے کو الکانتارا لیدر سے سجایا گیا ہے جبکہ اس میں برقی طور پر ایڈجسٹ کی جا سکنے والی اسپورٹس سیٹیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی لوگوں کو اس 2.5 لیٹر کے انجن کے بارے میں تحفظات ہیں، مگر کلاس کو اس سے اتفاق نہیں، ان کے مطابق اس میں کافی قوت ہے۔

نتیجہ

کلاس ٹیسٹ ڈرائیو کے بعد یہ بھی کہتے ہیں کہ 365 ہارس پاور اور 430 نیوٹن میٹر ٹارک والی اس گاڑی کو جب ایکسلریٹ کیا جائے، تو یہ فوراً رفتار پکڑ لیتی ہے، مجموعی طور پر دیکھیں تو ریس ٹریک پر یہ گاڑی واقعی ریس میں دوڑانے لائق ہے۔


یہ تحریر ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) کے اشتراک سے تحریر کی گئی


ترجمہ: ایاز احمد لغاری —ایڈیٹر : وقار محمد خان