سپریم کورٹ میں ایگزیکٹ جعلی ڈگری از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کمپنی کے مالک اور ملزمان کو طلب کرلیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری از خود نوٹس کیس کی سماعت کی جہاں ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) بشیر میمن عدالت نے رپورٹ پیش کی۔

چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے ایگزیکٹ کے معاملے کا پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ دفاتر کوسیل کرکے دستاویزات قبضے میں لی گئی تھیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اب یہ معاملہ دوبارہ سامنے آرہا ہے اور اگریہ درست ہے تو ملک کی بدنامی ہورہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اس معاملے میں سچائی نہیں تومہم چلانے والوں کے کارروائی ہوگی اور اگر جعلی ڈگریوں کی خبر میں صداقت ہے تو پھر کوئی نہیں بچ پائے گا۔

مزید پڑھیں:ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل: سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لے لیا

ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ 15 مئی 2015 کوایگزیکٹ سے متعلق خبر شائع ہوئی اور پشاور میں جعلی ڈگری رکھنے والے پروفیسر پکڑے گئے۔

بشیرمیمن نے عدالت کو بتایا کہ ایگزیکٹ کا ہیڈ کوارٹر کراچی میں ہے اور اس کے 10 کاروباری یونٹ ہیں جس میں سے ایک کاروبار آن لائن تعلیم کا بھی ہے اور ان کے خلاف کل چار مقدمات درج کیے گئےہیں۔

انھوں نے کہا کہ کراچی کی ماتحت عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے تاہم پشاور ہائی کورٹ میں مقدمہ چلا ہی نہیں اور جس پروفیسر نے جعلی ڈگری حاصل کی تھی وہ کسی جوڈیشیل افسر کا بھائی ہے۔

ملزمان کے نام طلب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں ملزمان کے نام لکھوا دیں، اسلام آباد میں ضمانت والے ملزم کون ہیں، ڈاکٹر عامر لیاقت نے ایگزکٹ سے ڈگری نہ لی ہو، اگر عامرلیاقت نے ایگزیکٹ سے ڈگری لی ہے تو اس کوچھوڑوں گا نہیں جس پر سامنے بیٹھے عامر لیاقت حسین نے دونوں ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے کہا کہ میری ڈگری ایگزیکٹ کی نہیں ہے۔

عامر لیاقت کو مخطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ یہ آپ کا ٹی وی پروگرام نہیں یہاں عدالت کا ڈیکورم ہوتا ہے، اس طرح ہاتھ نہ لہرائیں۔

بعد ازاں عدالت نےایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ سمیت ایگزیکٹ کے تمام ملزمان کو طلب کرتے ہوئے کی کہ تمام ملزمان کے نام دیے جائیں اور ضرورت پڑی تو ان کے نام ای سی ایل میں بھی ڈالیں گے۔

بنچ نے کہا کہ پاکستان کی عزت بچانے کے لیے کردارادا کرنا ہے، متعلقہ عدالت ایک سے ڈیڑھ ماہ میں مقدمات نمٹائیں گی کیونکہ ملک کا وقاربہت بڑی چیزہے۔

ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹ کا 70 فیصد ریوینیو آن لائن تعلیم کے یونٹ سے آتا ہے۔

بشیر میمن نے کہا کہ کراچی میں بیٹھ کر امریکا میں 330 جامعات کی ویب سائٹ بنائی گئیں اورویب سائٹ پر نمبر بھی امریکہ کا دیا گیا لیکن فون پاکستان میں موصول ہوتی ہے اور فون اٹھانے والا امریکی لہجے میں بات کرتا ہے۔

انھوں نے عدالت کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایگزیکٹ سے ڈگری حاصل کرنے کے خواہش مند امریکا کے اکاونٹ میں پیسے جمع کرتے تھے اور وہ پیسے پاکستان منتقل کیے جاتے تھے۔

ان کا کہنا تھ اکہ ایف آئی اے نے کمپنی کے خلاف چار مقدمات بنائے تھے، دو مقدمات اسلام آباد میں تھے جہاں ضمانتیں ہوئیں۔

بشیر میمن نے عدالت کو بتایا کہ ایک جج پر پیسے لینے کا الزام بھی لگا جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور کراچی کی عدالت کے رجسٹرار کو بھی طلب کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت 9 فروری تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ غیرملکی نشریاتی ادارے میں شائع ہونے والی خبر کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے 19 جنوری 2017 کو ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے 10 روز میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی بدنامی کرنے والا کوئی بچ کر نہیں جائے گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس اسکینڈل کے باعث ہمارے سر شرم سے جھک گئے ہیں اس لیے ڈی جی ایف آئی اے جعلی ڈگری سے متعلق مہم کا پتہ چلائیں۔