چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے میمو گیٹ اسکینڈل میں سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری خارجہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کو طلب کر لیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے میموگیٹ کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری خارجہ اور ڈی جی ایف آئی اے عدالت میں پیش ہو کر حسین حقانی کو وطن واپس لانے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کریں۔

چیف جسٹس نے سینئر وکیل اکرم شیخ سے استفسار کیا کہ وہ کس کی طرف سے کیس کی پیروی کر رہے ہیں جس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ’میں منصور اعجاز کی طرف سے ہوں جو اس کیس میں واحد گواہ ہیں‘۔

چیف جسٹس نے کیس کا جائزہ لینے کے بعد حسین حقانی کی نظرثانی کی درخواست عدم پیروی کی وجہ سے خارج کردی۔

مزید پڑھیں: میمو ،حسین حقانی ہی کی تخلیق تھا، تحقیقاتی کمیشن

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سابق سفیر کی جانب سے وکیل اے اور آر کو کوئی ہدایت نہیں دی گئی۔

اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے اپنے دلائل کے دوران کہا گیا کہ حسین حقانی نے پاکستان آنے سے انکارکردیا جبکہ وہ وطن واپس آنے کی یقین دہانی کروا کر گئے تھے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ سیکرٹری داخلہ کو حسین حقانی کو وطن واپس لانے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حسین حقانی کی واپسی کیلئے وزارتِ داخلہ نے عدالت کے حکم پر کیا اقدامات کیے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’میرے خیال سے وزارتِ داخلہ نے اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کئے‘۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ حسین حقانی نے واپس آنے کا وعدہ کیا تھا، ان کی روانگی کے وقت اٹانی جنرل کون تھے جس پر رانا وقار نے بتایا کہ مولوی انوار الحق اس وقت اٹارنی جنرل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: 'حسین حقانی کے معاملے پر کمیشن بنانا غیر ضروری'

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حسین حقانی کے معاملے میں کوئی نا کوئی ایڈجسٹمنٹ ہوئی ہو گی، میمو کمیشن کس کے کہنے پر سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوا اور اس حوالے سے رجسٹرار آفس سے بھی جواب طلب کیا جائے گا۔

انہوں نے استفسار کیا کہ حسین حقانی کو واپس کیسے لایا جائے گا جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سابق سفیر کی واپسی کے لیے ہر ممکن اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ عدالت مہلت دے تو تمام اقدامات سے آگاہ بھی کیا جائے گا۔

درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ’حسین حقانی نے کیس دوبارہ کھولنے کو سیاسی تماشہ قرار دیا اور وہ کہتے ہیں کہ بابا رحمتے کے کہنے پر واپس نہیں آؤں گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تمام پرانے مقدمات مقرر کرنے کا حکم دیا تھا، تو اس میں کیا سیاسی تماشا ہے؟

انہوں نے کہا کہ سرکاری وکیل نے یقین دہانی کروائی کہ سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے اقدامات کریں گے۔

مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی کا حسین حقانی سے لاتعلقی کا اعلان

بعدِ ازاں عدالت نے رجسٹرار آفس سے کیس مقرر ہونے میں تاخیر پر بھی جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی جس کی حتمی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 2 فروری کو سپریم کورٹ نے امریکا میں مقیم سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے حوالے سے متنازع میمو گیٹ کیس کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا تھاجبکہ حسین حقانی اور کیس میں دیگر فریقین بشمول سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نوٹسز جاری کردیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ حسین حقانی کا نام اپیکس عدالت میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور دیگر شہریوں کے گروہ کی جانب سے دائر بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو جمہوری عمل میں شرکت کے کیس کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا ہم سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کو بھی ووٹ ڈالنے کا حق دیں گے؟

بعد ازاں انہوں نے کہا کہ کیوں نہ ہم حسین حقانی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں میمو گیٹ کیس کا سامنا کرنے کے لیے طلب کرلیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 22 جنوری کو امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے خلاف فوج اور ملک مخالف تقاریر، مضامین اور کتابیں تحریر کرنے کے الزام میں غداری کے 3 مقدمات دو تھانوں میں درج کرلیے گئے تھے۔

حسین حقانی اور میموگیٹ

میموگیٹ اسکینڈل 2011 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں حسین حقانی کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا، جس میں انہوں نے ایک خفیہ میمو اس وقت کے امریکی ایڈمرل مائیک مولن تک پہنچانے کا کہا تھا۔

یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیے گئے امریکی آپریشن کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کو روکنے کرنے کے سلسلے میں حسین حقانی نے واشنگٹن کی مدد حاصل کرنے کے لیے ایک پراسرار میمو بھیجا تھا۔

اس اسکینڈل کے بعد حسین حقانی نے بطور پاکستانی سفیر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔

جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو ایک حقیقت تھا اور اسے حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو لکھنے کا مقصد پاکستان کی سویلین حکومت کو امریکا کا دوست ظاہر کرنا تھا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ایٹمی پھیلاؤ روکنے کا کام صرف سویلین حکومت ہی کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ حسین حقانی نے میمو کے ذریعے امریکا کو نئی سیکورٹی ٹیم کے قیام کا یقین دلایا اور وہ خود اس سیکیورٹی ٹیم کا سربراہ بننا چاہتے تھے۔

کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ 'حسین حقانی یہ بھول گئے تھے کہ وہ پاکستانی سفیر ہیں، انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی'۔

حسین حقانی اور مضمون

واضح رہے کہ حسین حقانی نے اخبار واشنگٹن پوسٹ میں کالم تحریر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن میں انہوں نے اوباما انتظامیہ کی مدد کی جبکہ حکومت پاکستان اور خفیہ ایجنسی (آئی ایس آئی) تمام حالات سے بے خبر تھی۔

یہ بھی پڑھیں: 'حسین حقانی سے متعلق ریاستی اداروں کے موقف کی تصدیق'

انہوں نے اپنے مضمون میں امریکیوں کو جاری کیے جانے والے ویزوں کے حوالے سے بھی بات کی تھی۔

حسین حقانی نے لکھا تھا کہ 'اوباما کی صدارتی مہم کے دوران بننے والے دوستوں نے، 3 سال بعد ان سے پاکستان میں امریکی اسپیشل آپریشنز اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو تعینات کرنے کے حوالے سے مدد مانگی تھی'۔

اس حوالے سے امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر عابدہ حسین نے حسین حقانی کے حالیہ مضمون کے معاملے پر پارلیمانی کمیشن بنانے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو عام کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔

مزید پڑھیں: ’حسین حقانی کو ویزوں کے اجرا کا اختیار نہیں تھا‘

دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ سفارتی ویزوں کے اجرا کے حوالے سے حسین حقانی کے بیانات سے 'پاکستان کے ریاستی اداروں کے موقف کی تصدیق ہوتی'۔

ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز وائز' میں گفتگو کرتے ہوئے عابدہ حسین نے کہا تھا کہ ‘اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے حسین حقانی کے اس مضمون سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، لیکن یہ بات کوئی وزن نہیں رکھتی، سابق صدر آصف زرداری نے اپنے دورِ صدارت میں حسین حقانی کو امریکا میں بطور پاکستانی سفیر تعینات کرکے ایک نہایت غلط اقدام اٹھایا تھا۔