بھارت کے خلاف چوتھے ون ڈے میچ میں جنوبی افریقی اسپنر عمران طاہر کو بھارتی تماشائی کی جانب سے نسل پرستانہ جملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد تماشائی کو اسٹیڈیم سے باہر نکال دیا گیا۔

جوہانسبرگ میں کھیلے گئے سیریز کے چوتھے ون ڈے میچ میں ایک تماشائی نے لیگ اسپنر کو نسل پرستانہ جملہ کسا جس پر انہوں نے سیکیورٹی حکام کو صورتحال سے آگاہ کیا جنہوں نے تماشائی کو اسٹیڈیم سے باہر نکال دیا۔

جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ نے صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے کو جوہانسبرگ میں بھارت کے خلاف چوتھے ون ڈے میچ کے دوران ایک نامعلوم فرد نے عمران طاہر کو نسل پرستانہ جملوں کا نشانہ بنایا جس کے بعد انہوں نے دو سیکیورٹی اہلکاروں کی مدد سے مذکورہ شخص کی نشاندہی کی جنہوں نے اس شخص کو اسٹیڈیم سے باہر نکال دیا۔

بورڈ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ عمران طاہر نے مذکورہ شخص یا کسی بھی بچے سے کوئی بدتمیزی نہیں کی۔ کرکٹ جنوبی افریقہ اور اسٹیڈیم کی سیکیورٹی ٹیم کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔

جنوبی افریقی ٹیم کے منیجر محمد موسیٰ جی نے کہا کہ ایک شائق پورے میچ کے دوران عمران طاہر پر جملے کستا رہا اور عمران طاہر کے مطابق وہ ایک بھارتی تماشائی تھا۔

آئی سی سی کے قوانین کے تحت نسل پرستانہ جملے ادا کرنے والے شائقین کو میدان سے باہر نکال دیا جاتا ہے اور اس فرد کو مزید تحقیقات کے نتیجے میں سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ واقعہ چوتھے ون ڈے میچ کے دوران رونما ہوا اور اس کی ویڈیو بھی بن گئی تھی جو اس وقت سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے۔

واضح رہے کہ عمران طاہر چوتھے ون ڈے میچ میں جنوبی افریقی ٹیم کا حصہ نہیں تھے اور جس وقت انہیں نسل پرستانہ جملوں نشانہ بنایا گیا اس وقت وہ 12ویں کھلاڑی کی حیثیت سے میدان میں خدمات انجام دے رہے تھے۔