صوبائی الیکشن کمشنرز نے سینیٹ امیدواروں کی فہرستیں الیکشن کمیشن کو بجھوادیں، جس کے مطابق سندھ سے 10 اور کے پی کے سے 2 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے جبکہ پنجاب سے اسحٰق ڈار سمیت 6 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے۔

صوبائی الیکشن کمیشنرز کی فہرستوں کے مطابق سندھ سے صوفیہ شاہ اور احمد چنائے سمیت سینیٹ امیدواروں کے 10 کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے اور سندھ سے جنرل نشستوں پر 21 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی درست قرار پائے، جن میں رضا ربانی، مولابخش چانڈیو، تاج حیدر، علی رضا عابدی کے کاغذات منظور کئے گئے۔

اقلیتوں کی نشستوں پر چار جبکہ خواتین کی نشستوں پر 8 امیدواروں کے کاغذات درست قرار دیئے گئے اور سندھ سے ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر 9 امیدواروں کے کاغذات منظور کیے گئے۔

مزید پڑھیں: سینیٹ انتخابات: تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان معاہدے کا امکان

الیکشن کمیشن کے مطابق کے پی کے سے ظفراللہ خٹک اور علی خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے، جنرل نشستوں پر 18 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے، ان میں فیصل سخی بٹ، فیصل جاوید، گل نصیب خان، طلحہ محمود، مولانا سمیع الحق اور صابر شاہ کے کاغذات منظور کئے گئے۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر کے پی کے سے 6 امیدوارں کے کاغذات منظور کئے گئے اور خواتین کی نشستوں پر 8 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے اور خواتین کی نشستوں پر نعیمہ کشور، روبینہ خالد، انیسہ زیب، طاہر خیلی اور مہر تاج روغانی سمیت 8 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کئے گئے۔

صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان کے مطابق سینیٹ انتخابات کے کاغزات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور چار امیدواروں کے کاغزات نامزدگی مسترد ہوئے جن میں تین ٹیکنوکریٹ اور 1 خواتین نششت کے ہیں۔

الیکشن کمیشنر محمد نعیم مجید جعفر کے مطابق ٹیکنوکریٹ میں سے حسین اسلام، محمد عبدالقادر، اور نسیب للہ بازئی جبکہ خواتین کی نشست پر طاہرہ خورشید کے کاغزات نامزدگی مسترد ہوئے۔

پنجاب سے امیدواروں کی جانچ پڑتال بھی مکمل ہو گئی ہے اور صوبے سے اسحٰق ڈار سمیت 6 امیدواروں کے کاغزات مسترد ہوئے جبکہ جنرل نشستوں پر 14 امیدواروں کے کاغزات نامزدگی منظور کیے گئے، جن افراد کے کاغزات نامزدگی منظور ہوئے ان میں کامل علی آغا، آصف کرمانی، مصدق ملک، چوہدری محمد سرور، رانا محمود الحسن کے کاغزات منظور کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات:پیپلز پارٹی 6، مسلم لیگ (ن) 3 نشستوں کیلئے پُرامید

خواتین کی مخصوص نشستوں پر حنا ربانی کھر، نزہت صادق شیزا، فاطمہ خواجہ، سعدیہ عباسی اور عندلیب عباس کے کاغزات بھی منظور کر لیے گئے جبکہ ٹیکنوکریٹ کی نشستوں کے لیے نوازش علی پیرزادہ، نصیر بھٹہ اور ملک آصف کے کاغزات منظور ہوئے۔

جنرل نشستوں پر شہزاد علی خان، ہارون خان، سمیع اللہ، زبیر گل اور مقبول احمد، میاں حامد معراج، عرفان احمد ڈاھا، شاہین بٹ اور ملک شکیل اعوان کے کاغزات منظور جبکہ اقلیتی نشستوں پر کامران مائیکل، ویلیم مائیکل اور وکٹر ازاریہ کے کاغذات نامزدگی منظور کئے گئے۔

ایوانِ بالا کی 104 میں سے 52 نشستوں پر انتخابات 3 مارچ 2018 کو معنقد ہوں گے جس کا باقاعدہ اعلان 2 فروری کو کیا گیا تھا۔

52 سینیٹرز اپنی 6 سالہ مدت پوری کرکے 11 مارچ کو ریٹائر ہو جائیں گے جبکہ 12 مارچ کو نئے سینیٹرز حلف اٹھاکر سینیٹر شپ کے حقدار بن جائیں گے۔

ایوانِ بالا 104 سینیٹرز پر مشتمل ہوتا ہے جس میں چاروں صوبوں سے مجموعی طور پر 92، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) سے 8، اسلام آباد سے 4 نشستیں ہوتی ہیں۔

صوبے کی سطح پر کل 23 نشستیوں میں سے 14 جنرل، 4 خواتین جبکہ ایک اقلیت اور 4 ٹیکنوکریٹ کے لیے ہوتی ہیں۔

ایوان بالا میں سینیٹرز کی نشست 6 سال کی مدت پر محیط ہوتی ہے اور تقریباً ہر تیسرے سال 50 فیصد سینیٹرز ریٹائر ہوتے ہیں اور پھر خالی نشستوں پر نئے سینیٹرز کے لیے انتخابات کرائے جاتے ہیں۔