مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے نتیجے میں دو کشمیری نوجوانوں کے علاوہ دو سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوگئے۔

پولیس افسر ایس پی وید کا کہنا تھا کہ جھڑپ کے نتیجے میں ایک فوجی مارا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے سب سے بڑے شہر سری نگر کے جس علاقے میں جھڑپ ہوئی تھی وہاں پر سیکیورٹی فورسز اب بھی کارروائی کررہی ہیں۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ جموں شہر کے قریب فوجی کیمپ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے دو دن بعد شروع ہوئی تھی جس میں 5 فوجی اور ایک شہری بھی جاں بحق ہوگیا تھا۔

دوسری جانب کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سری نگر کے علاقے کرن نگر میں دو روز جاری رہنے والی جھڑپ میں دو نوجوانوں کے ساتھ ساتھ انڈین سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوگئے۔

کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد جنوبی کشمیر کے علاقے قاضی گنڈ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جبکہ اطلاعات کے مطابق ضلع اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بھی مظاہرین اور بھارتی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں:کشمیر کے مسئلے پر پاک-انڈیا مذاکرات ضروری ہیں، محبوبہ مفتی

بھارتی حکام کی جانب سے سری نگر کے مختلف علاقوں میں نوجوانوں کے احتجاج کے پیش نظر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور شہر بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا گیا۔

یاد رہے کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم ہے اور دونوں جانب سے اپنے حق میں دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں سے آزادی کی تحریک چل رہی ہے جس کو کچلنے کے لیے بھارت نے لاکھوں فوجیوں کو تعینات کردیا ہے۔

کشمیر میں 1989 میں زور پکڑنے والی آزادی کی تحریک کے بعد اب تک 70 ہزار کے قریب افراد کو مارا گیا ہے جن میں سے اکثریت شہریوں کی ہے جن کو بھارتی فورسز کی جانب سے مختلف کارروائیوں کے دوران نشانہ بنایا گیا۔