حکومت پنجاب نے راولپنڈی میں جماعت الدعوۃ کے زیر انتظام مدارس اور صحت کے مراکز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی مہم کا آغاز کردیا۔

مہم کے دوران حکومتِ پنجاب نے راولپنڈی کے چکرا روڈ پر واقع مدرسہ حدیبیہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے کر محکمہ اوقاف کو اس کے انتظامی امور کی ذمہ داری سونپ دی۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے بھی شہر میں موجود جماعت الدعوۃ کے فلاحی ادارے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف) کے زیر انتظام 4 صحت کے مراکز کا کنٹرول بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

وفاقی حکومت نے کمپنیوں اور مخیر حضرات کو بھی جماعت الدعوۃ، ایف آئی ایف اور اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل (یو این ایس سی) کی جانب سے جاری کردہ کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل جماعتوں کو چندہ دینے سے روک دیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے تمام کمپنیز کو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کو چندہ دینے سے روک دیا تھا۔

مزید پڑھیں: جماعت الدعوۃ سمیت دیگر تنظیموں پر عطیات جمع کرنے پر پابندی

اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری لسٹ میں جماعت الدعوۃ اور اس کی فلاحی تنظیم کے علاوہ القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، لشکرِ جھنگوی اور لشکرِ طیبہ شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے بعد حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں جماعت الدعوۃ اور اس کی فلاحی تنظیم کے زیر انتظام مدارس اور صحت کے مراکز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا کی مہم کا آغاز کیا تھا۔

خیال رہے کہ 9 فروری کو صوبائی حکومت کی جانب سے ان تنظیموں کے تحت چلنے والے مدارس اور صحت کے مراکز کو اپنے کنٹرول میں لینے کا حکم دیا تھا۔

راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ حکام نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب انہیں 4 مدارس کے نام مسوصول ہوئے جس کے بعد انتظامیہ نے ان مدارس کا دورہ کیا، جس کے حوالے سے جماعت الدعوۃ نے تردید کی کہ جماعت کا ان مدارس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے مدرسہ حدیبیہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا گیا ہے جو ایک اسکول، کالج اور مدرسے پر محیط ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت الدعوۃ کی فلاحی تنظیم کے خلاف مقدمہ درج

راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کے حکام کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے حدیبیہ مدرسے کی مالی امداد اور اس کے اخراجات کی جانچ کرنے کے لیے اس کا آڈٹ بھی شروع کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مذکورہ مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور یہاں درس دینے والے اساتذہ کے تفصیلات سے آگاہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ ایف آئی ایف کے زیرِ انتظام صحت کے مراکز میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی تفصیلات حاصل کرکے آگاہ کیا جائے۔

ضلعی انتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ حکومت نے اس کام کو انجام دینے کے لیے پولیس، محکمہ اوقاف اور ضلعی انتظامیہ کے افسران پر مشتمل ایک ٹیم بھی تشکیل دے دی۔

انہوں نے بتایا کہ اسی طرح کی کارروائیوں کا آغاز صوبے کے دیگر اضلاع اٹک، چکوال اور جہلم میں بھی کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پولیس کو جماعت الدعوۃ پر ’نظر‘ رکھنے کی ہدایت

راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر طلعت محمود گوندل نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے تصدیق کی کہ صوبائی حکومت نے جماعت الدعوۃ اور ایف آئی ایف کے زیرِ انتظام مدارس اور صحت کے مراکز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

انہوں نے بتایا کہ مدارس کو محکمہ اوقاف کے سپرد کردیا گیا ہے جبکہ صحت کے مراکز کی ذمہ داریاں محکمہ صحت کو دے دی گئیں ہیں، تاہم جماعت الدعوۃ کے زیر انتظام تعلیم اور صحت کی سہولیات اب سے حکومت دیکھے گی۔

محکمہ اوقاف کے علاقائی منتظم زاہد اقبال کا کہنا تھا کہ ان مدارس میں تعلیم کے لیے حکومت نے اہلِ حدیث مکتبِ فکر کے نئے خطیب مقرر کردیے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی فہرست کے بعد جماعت الدعوۃ کے مدارس کا پتہ لگانے کے لیے ضلع بھر میں سروے کا آغاز کردیا گیا۔

دوسری جانب تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے جماعت الدعوۃ کے مدارس کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینا حکومت کے لیے ایک مشکل عمل ہوگا۔


یہ خبر 14 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی