اسلام آباد: عدالت عظمیٰ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان کو بنی گالا میں تعمیر اپنی 300 کنال کی رہائش گاہ کا منظورشدہ سائٹ پلان عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے کورنگ ندی کے اطراف تمام نوعیت کی تعمیرات پر پابندی عائد ہے جبکہ کورنگ ندی کا سلسلہ کوہ مارگلہ سے آنے والی دیگر ندیوں کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں مصنوعی راول جھیل بناتی ہے۔

یہ پڑھیں: جنگوں اور بیماریوں سے زیادہ ’آلودگی‘ سے ہلاکتیں

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریمارکس دیئے کہ ‘عمران کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنی رہائش گاہ کا متعلقہ اداروں سے تصدیق شدہ سائٹ پلان فوری جمع کرائیں’۔

اس ضمن میں خیال رہے کہ کورنگ ندی کے اطراف غیرقانونی تعمیرات اور تجاویزات کے خلاف پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے ہی عدالت عظمیٰ نے درخواست پیش کی تھی جس پر چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیتے ہوئے تعمیرات پر پابندی عائد کردی تھی تاہم مئی 2017 میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے تجاوزیات اور خلاف ضابطہ تعمیرات سے متعلق عدالت میں مفضل رپورٹ جمع کرائی کہ بنی گالا میں عمران خان کی کوٹھی بھی ان 122 غیر قانونی تعمیر شدہ عمارتوں میں شامل ہے۔

اس حوالے سے عدالت عظمیٰ نے منگل (13 فروری) کو حکم صادر کیا کہ پاکستان نوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی (پاک ای پی اے) اور متعلقہ محکموں کی اجازت کے بغیر نجی اراضی پر قائم ہاوسنگ سوسائٹیز مزید تعمیرات سے گریزکریں۔

یہ بھی پڑھیں: ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات : پاکستان ساتویں نمبر پر

اسی دوران 24 اپریل 2017 کو عدالت نے متعلقہ محکموں کو بجلی اور گیس کنکشن کی فراہمی سے روک دیا تھا۔

وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ وہ بنی گالا میں کیمپ لگا کر مقامی افراد کے مسائل سنیں گے اور اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی کہ شہری سولڈ اور طبی فضلہ ندی میں ڈال کر اس کا پانی آلودہ نہ کریں۔

اس کے علاوہ عدالت عظمیٰ نے ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے گزشتہ سال ہراساں کرنے کے الزام میں نافذ سیکشن 144 کو کالعدم قرار بھی دے دیا۔

کورٹ نے سی ڈی اے اور مقامی قونسل سے ندی کے اطراف میں تفویض کردہ لیز کی تفصلات طلب ایک ہفتے میں طلب کرلی اور متعلقہ محکموں کو کمرشل سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا بھی حکم دیا۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے عدالت کو یقین دلایا کہ ندی کے پاس تمام کچرا کنڈی کو فوراً ختم کردیاجائے گا۔

مزید پڑھیں: عالمی ماحولیاتی تبدیلی: 2040 میں پاکستان میں سیلاب کی شدت دگنی ہوجائے گی

سماعت کے دوران پاک ای پی اے کی ڈائریکٹر جنرل فرزانہ الطاف شاہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے ہمراہ رپورٹ پیش کی جس میں انکشاف کیا گیا کہ بنی گالا میں کسی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی نے بھی پاک ای پی اے سے منظوری حاصل نہیں کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہاوسنگ سوسائٹی کی جانب سے ماحولیاتی خدشات کے سبدباب کے لیے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ، ٹھوس فضلہ کو ٹھکانے لگانے اور شجر کاری کے لیے کوئی منصوبہ یا نظام واضع نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ درجہ حرات میں اضافہ اور پانی میں آلودگی کے سبب کم آکسیجن مچھلیوں کے لیے ہلاکت کا باعث بنتی ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے مذکورہ کیس کی سماعت 22 فروری تک ملتوی کردی ۔

خیال رہے کہ ڈان میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق نیشنل پارک کی تجویز 1960 میں اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا حصہ تھی، جو یونانی آرکیٹیکچر کانسٹینٹ تینس اپوستولس ڈوکسڈز نے دی تھی، اس تجویز کے تحت آج جس جگہ بنی گالا واقع ہے، وہیں ایک بہت بڑا درختوں سے بھرا پارک بنایا جانا تھا۔

بہت کم لوگ ایسے ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ بنی گالا عمران خان اور عبدالقدیر خان جیسے نامور لوگوں کی رہائش گاہ بننے سے قبل دارالحکومت اسلام آباد کے لیے مجوزہ نیشنل پارک کے لیے مختص کی جانے والی جگہ ہے۔


یہ خبر 14 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی