وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پاکستان میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ کارروائی کی صورت میں نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا بلکہ اس کا جواب بھی دیا جائے گا۔

امریکی نیوز چینل سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کسی بھی طرح کی یکطرفہ کارروائی ریڈ لائن ثابت ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی ایک باوقار قوم ہیں اور ہم باہمی اعتماد پر دوستی چاہتے ہیں لیکن پاکستان کو دبانے یا دباؤ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی سے براہ راست متاثر ہوا ہے اور ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، 'دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس نے گزشتہ برسوں میں دہشت گردی کے خلاف اتنی قربانیاں اور اتنا تعاون کیا ہو جتنا پاکستان نے کیا ہے'۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی فوجی امداد سے القاعدہ اور داعش کو شکست دینے میں مدد ملے گی، امریکا

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں 60 ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ہماری معیشت کو 25 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

امریکا کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی امداد پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزم کا اعادہ کیا ہے جبکہ امریکا یا یو ایس ایڈ کی جانب سے آنے والی امداد بہت معمولی ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان یہ جنگ امریکی امداد کے لیے نہیں لڑ رہا بلکہ ہم یہ جنگ اپنے لوگوں اور ان کے مستقبل کے لیے لڑ رہے ہیں۔

انٹرویو کے دوران انھوں نے واضح طور پر کہا کہ امریکا کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی بات کی جائے تو ہمارا موقف واضح ہے کہ ہمیں ’امداد کی نہیں تجارت‘ کی ضرورت ہے اور اسلام آباد امریکا کو ایک امداد دینے والے ملک کے بجائے اپنا ترقی کا ساتھی دیکھنا چاہتا ہے۔

پاک-افغان-امریکا تعلقات

پاک افغان تعلقات پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک جغرافیائی لحاظ سے بندھے ہوئے ہیں اور یہ امریکا اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہوگا کہ وہ مل کام کریں کیونکہ پاکستان وہ پہلا ملک ہے جو افغانستان میں بد امنی کی قیمت چکا رہا ہے اور ہم ہی وہ پہلا ملک ہیں جنھیں افغانستان میں امن سے فائدہ ہوگا۔

افغانستان میں جاری امریکی جنگ پر مزید بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ امریکا میں بہت سے لوگ اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا کر ڈالنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ افغانستان میں اپنے من پسند نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ایک جامع نقطہ نظر پیش کیا اور امریکا سے خطے میں موجود تمام اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات دور کرنے کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں حتمی نتائج اور امن اور استحکام کے لیے ہمیں جامع نقطہ نظر پر عمل کرنے کی ضرورت، ہمیں فوجی اختیار کے ساتھ ساتھ سیاسی اختیار کی بھی ضرورت ہے اور خطے میں امن کے لیے افغانستان اور پاکستان دونوں کے مفادات اور سلامتی سے متعلق معاملات کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دہشت گردی کے خلاف جنگ: پاکستان نے فیکٹ شیٹ امریکا کے حوالے کردی

انھوں نے کہا افغانستان، امریکا اور پاکستان دونوں کے لیے اہم ہے، افغانستان اور پاکستان کی جغرافیائی حیثیت نے ایک دوسرے کو باندھ رکھا ہے اور ہمیں شراکت داری کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔

انٹرویو کےد وران جب ان سے پوچھا گیا کہ اس سارے معاملے میں انڈیا کے کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو چاہیے کہ وہ جنوبی ایشیا اور افغانستان کو بھارت کی آنکھ سے دیکھنے کے بجائے اپنی آزاد نظریے سے دیکھے۔

احسن اقبال نے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات اور شراکت داری کی ایک طویل تاریخ ہے جہاں ایک تیسرا ملک اس معاملے کو خراب کرسکتا ہے۔