اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے بیرونِ ملک جانے پر پابندی کرتے ہوئے انہیں ملک میں ہی رہنے کی ہدایت جاری کردی۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا تھا کہ وہ کسی بین الاقوامی کیس کے سلسلے میں لندن جانا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ آپکو پتہ ہے کہ کتنے اہم مقدمات سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں، آپ مقدمات چهوڑ کر بیرونِ ملک نہیں جا سکتے۔

مزید پڑھیں: کلبھوشن کیس: اٹارنی جنرل اشتر اوصاف پاکستانی ٹیم کی قیادت کریں گے

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ اگر عدالت کہے گی تو وہ لندن کا دورہ منسوخ کر دیں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ آپ پاکستان میں ہی موجود رہیں گے، اور آپ کہیں نہیں جائیں گے۔

’عادی مقدمہ باز‘ کی سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ’عادی مقدمہ باز‘ شاہد اورکزئی پر سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔

لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس منصور علی شاہ کی سپریم کورٹ میں تقرری کے خلاف دائر درخواست کے سلسلے میں شاہد اورکزئی عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پٹیشن دائر کرنے کے عادی ہیں اور ججوں کی تضحیک بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب جھوٹی پٹیشن دائر کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب ججوں کی تزہیک کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس منصور علی شاہ نے سپریم کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھالیا

شاہد اورکزئی نے عدالت سے دریافت کیا کہ ان کی سپریم کورٹ کی کون سی رجسٹری میں جانے پر پابندی عائد ہوگی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پر تمام رجسٹریوں میں جانے پر پابندی ہوگی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ روزانہ کوئی نہ کوئی پٹیشن دائر کرتے ہیں اور اس پہلے بھی توہینِ عدالت میں جیل جاچکے ہیں۔

شاہد اورکزئی نے سوال کیا کہ کون سے ملک کے سپریم کورٹ کی رجسٹری میں جانے پر پابندی ہوگ جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سپریم کورٹ میں، اور اگر آپ نے روسٹرم نہ چھوڑا تو مزید سخت اقدام اٹھا سکتا ہوں۔