کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی ) نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما رؤف صدیقی، کارکن زبیر عرف چریا اور عبدالرحٰمن عرف بھولا پر فردِ جرم عائد کرتے ہوئے علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دے دیا۔

واضح رہے کہ سماعت سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے 29 جنوری کو سانحہ بلدیہ کیس میں اہم ملزم زبیر عرف چریا کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے اے ٹی سی کو کیس کا ٹرائل جلد مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

سانحہ بلدیہ کیس کے مرکزی ملزم کیوایم کیو رہنما رؤف صدیقی، عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر چریا بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔

یہ پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس: رؤف صدیقی کو پیشی کیلئے سمن جاری

یاد رہے کہ عبدالرحٰمن عرف بھولا کو انٹرپول کی مدد سے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے گرفتار کرکے پاکستان منتقل کیا گیا تھا۔

عدالت نے استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ شواہد کی روشنی میں ملزمان پر فرد جرم عائد کی جبکہ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگلی سماعت میں استغاثہ گواہان پیش کریں۔

بعدازاں عدالت نے سماعت 17 فروری تک ملتوی کردی.

واضح رہے کہ ستمبر 2012 میں بلدیہ ٹاؤن کی ایک گارمنٹس فیکٹری میں ہونے والی آتشزدگی کے نتیجے میں 250 مزدور جاں بحق ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ بلدیہ: فیکٹری مالکان کے بیانات ریکارڈ

15 اکتوبر 2017 کو رینجرز پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ نے چارج شیٹ میں کہا تھا کہ عبدالرحٰمن عرف بھولا نے دوران تفتیش اور بعد ازاں مجسٹریٹ کے سامنے اقرار کیا کہ اس نے زبیر عرف چریا کے ہمراہ ایم کیو ایم کے رہنما حماد صدیق کے کہنے پر فیکٹری کو آگ لگائی کیوں کہ فیکٹری مالکان نے بھتہ دینے سے انکار کردیا تھا۔

ملزم کا کہنا تھا کہ رؤف صدیقی نے حادثے کے بعد فیکٹری ملکان کے خلاف مبینہ کیس درج کرایا۔

رپورٹ میں ملزم نے مزید اعتراف کیا کہ رؤف صدیقی اور حماد صدیقی نے کیس کا رخ تبدیل کرنے کے لیے فیکٹری ملکان سے 5 کروڑ وصول کیے۔

مزید پڑھیں: رینجرز رپورٹ: سانحہ بلدیہ ٹاﺅن میں ایم کیو ایم ملوث قرار

سانحے کی تحقیق کے لیے رینجرز اور پولیس سمیت دیگر اداروں کے افسران پر مشتمل 9 رکنی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی، جس نے اپنی رپورٹ سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی تھی۔

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں فروری 2015 میں ڈرامائی موڑاس وقت آیا جب رینجرز کی جانب سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں ایم کیو ایم کو اس واقعے میں ملوث قرار دیا گیا۔

رینجرز کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں جمع کروائی کی گئی جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے کارکن محمد رضوان قریشی نے انکشاف کیا کہ 'پارٹی کے ایک معروف اعلیٰ عہدیدار' نے اگست 2012 کو اپنے فرنٹ مین کے ذریعے آتشزدگی کا نشانہ بننے والی فیکٹری علی انٹرپرائزز کے مالک سے 20 کروڑ روپے بھتے کا مطالبہ کیا تھا۔