سپریم کورٹ میں سرکاری افسران اور ججوں کی دوہری شہریت کے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ڈی ایم جی، پی ایس پی، سیکریٹریٹ گروپ اور آفس منیجمنٹ گروپس سے 15 دنوں میں جواب طلب کر لیا جبکہ جواب نہ دینے والے ادارے کے خلاف کارروائی کرنے کی تنبیہ بھی کردی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سرکاری افسران اور ججوں کی دوہری شہریت کے حوالے سے سماعت کی۔

سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے عدالت کو بتایا کہ 43 وزارتوں اور ڈویژنز میں سے 20 نے دوہری شہریت کے افسران سے متعلق جواب دیا ہے جس کے بعد سپریم کورٹ نے ڈی ایم جی، پی ایس پی، سیکریٹریٹ گروپ اور آفس منیجمنٹ گروپس سے 15 دنوں میں جواب طلب کرلیا۔

عدالت نے کہا کہ جو ادارہ جواب نہ دے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

سپریم کورٹ نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اختیار سے باہر14 وزارتوں سے دوہری شہریت کے معاملے پر بھی جواب طلب کرلیا گیا جن میں لینڈ ریونیو، پاکستان کسٹم، آڈٹ اینڈ اکاونٹنس، انفارمیشن گروپ، ریلوے گروپ، پوسٹل سروسز، کامرس اور ملٹری ارلینڈ بھی شامل ہیں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ان 14 اداروں کے ان تمام افسران کی تفصیلات دی جائے جو 17 گریڈ سے اوپر دوہری شہریت کے حامل ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت تمام چیف سیکرٹریز کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے اور جواب داخل نہ کروانے والی 23 وزارتوں و ڈویژنز سے 2 ہفتوں میں جواب طلب کرلیا گیا۔

اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دہری شہریت کا حامل افسر پاکستان میں گڑ بڑ کرکے بھاگ جاتا ہے، سرکاری افسر نے اپنے بیوی بچے بیرونی ملک رکھے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دوہری شہریت کے افسر نے بیک وقت دو ملکوں سے وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہوتا ہے جبکہ ہم نے دوہری شہریت کے حامل اراکین پارلیمنٹ کو تو نااہل قرار دے دیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دوہری شہریت رکھنے والے ہم ججوں و سرکاری افسران کے بارے میں بھی قانون طے کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ایک گریڈ 22 کا سرکاری افسر بھی دوہری شہریت کا حامل ہوسکتا ہے اس لیے دوہری شہریت کے حامل تمام افراد کا مکمل ڈیٹا موجود ہونا چاہیے اور اگر کسی سرکاری افسر نے غلط معلومات دیں تو سخت کارروائی کریں گے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سرکاری افسران کی دوہری شہریت جاننے کے لیے مخبری کا نظام رائج کریں گے اور سرکاری افسر کی مخبری کرنے والے کو انعام دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ تمام وزارتوں اور ڈویژنز کے سربراہان سے دوہری شہریت کے حامل افسران سے متعلق پوچھا جائے جس کے بعد مقدمے کی سماعت یکم مارچ تک ملتوی کردی۔