سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات بل کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص رکن اسمبلی نہیں بن سکتا تو وہ پارٹی کا سربراہ کیسے بن سکتا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت 10 افراد کی جانب سے انتخابی اصلاحات بل 2017 کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران کہا کہ اگرکوئی شخص رکن اسمبلی نہیں بن سکتا تو وہ پارٹی کا سربراہ کیسے بن سکتاہے، کیا سنگین جرائم میں سزا پانے والا شخص پارٹی سربراہ بن سکتاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا منشیات فروش کسی پارٹی کا سربراہ بن سکتا ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ قانون میں پارٹی سربراہ کے لیے کوئی قدغن نہیں ہے، پارٹی چاہے تو ایسے شخص پر قدغن لگا سکتی ہے اور اس حوالے سے قانون میں اس وقت کوئی قدغن نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے اپنی بصیرت سے قانون پاس کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:انتخابی اصلاحات بل کی آئینی حیثیت سپریم کورٹ میں چیلنج

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پارٹی سربراہ رکن اسمبلی بن جائے تو پارلیمانی کمیٹی سربراہ کے خلاف کارروائی کا نہیں کہہ سکتی کیونکہ کارروائی تو پارٹی سربراہ کو لینا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایک شخص کو عدالت نااہل قرار دے چکی ہے، عدالت ایک شخص کو غیر امین اور غیر ایماندار قرار دے چکی ہے اور ایسا شخص پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا۔

سلمان اکرم راجا نے اپنے دلائل میں کہا کہ کیا بطور انسان ان کے بنیادی حقوق ختم ہو گئے، کیا ایسے شخص کے تنظیم سازی اور اظہار رائے کے حقوق ختم ہو گئے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایسے شخص کے تمام حقوق ہیں لیکن وہ سربراہ نہیں بن سکتا جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آئین پارٹی سربراہ بننے پر کوئی قدغن عائد نہیں کرتا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ عوام ایسے شخص کو منتخب نہیں کر سکتے جس پر آرٹیکل 62 ون کا اطلاق ہو۔

یہ بھی پڑھیں:انتخابی اصلاحات بل کے خلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر قانون کالعدم ہو گیا تو سینیٹ امیدواروں کے ٹکٹس کا کیا ہوگا، کیا سینیٹ کا الیکشن دوبارہ ہوگا، اگر ڈیکلیئر کر دیا کہ نااہل شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا تو سینیٹ الیکشن پر کیا اثر ہوگا۔

چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ کیا قانون کالعدم ہونے پر واک اوور ہوگا کیونکہ جب بنیاد ختم ہوجاتی ہے تو اس پر کھڑا ڈھانچہ بھی گر جاتا ہے۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر2002 کا سیکشن 5 نرالا تھا جس کے ذریعے پارٹی سربراہ کے لیے قدغن لگائی گئی تھیں جبکہ سیکشن 5 آرٹیکل 17 اور 19 کی خلاف ورزی تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت کو اپنا سربراہ منتخب کرنے کی اجازت ہے اورسیاسی جماعت کے اراکین پر اپنی مرضی کا سربراہ منتخب کرنے کی کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کا اثر محدود ہے جس کا اطلاق اراکین اسمبلی پر ہوتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ پارٹی سربراہ نااہلی کا کیس الیکشن کمیشن کو بھیجتا ہے جبکہ چیف جسٹس نے کہا کہ سربراہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارش کا پابند نہیں ہے، اصل فیصلہ تو سربراہ نے ہی کرنا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں:انتخابی بل 2017 کے خلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سیاسی جماعت سربراہ کے گرد گھومتی ہے اور سربراہ ہی اراکین پارلیمان کو کنٹرول کرتا ہے۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ 18 ویں ترمیم میں پارٹی سربراہ کے کارکن کونااہل کرنے کے اختیار کو محدود کردیا گیا ہے اور اب 18 ویں ترمیم کے بعد پارٹی سربراہ نااہلی کا معاملہ الیکشن کمیشن کوریفرکرسکتا ہے۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ کیا پارٹی سربراہ کاپارلیمانی کمیٹی کے کام میں کردار ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ اراکین اسمبلی پارٹی سربراہ کی ہدایات کے خلاف کیسے جاسکتے ہیں، یہ سیاسی جماعت ہے کمپنی نہیں کہ قانون کے پیچھے جائے۔

انھوں نے کہا کہ ضروری نہیں سربراہ رکن اسمبلی ہو لیکن سربراہ اراکین پارلیمنٹ کوکنٹرول کرتاہے۔

وکیل نے اپنے جواب میں کہا کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی سیاسی جماعت کا اندرونی معاملہ ہوتا ہے اورپارٹی سربراہ کسی رکن کو براہ راست نااہل نہیں کرسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے نااہلی کے معاملے کا جائزہ میرٹ پر لینا ہوتا ہے اورالیکشن کمیشن میں 20 ہزار سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں، ہر سیاسی جماعت پارلیمنٹ کا حصہ نہیں ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ان کی سرزنش بھی کی اور کہا کہ کیا پارٹی سربراہ کا حکومت سازی میں کردار ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے ریکارڈ منگوایا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی ٹکٹ کون جاری کرتا ہے اور سینٹ الیکشن میں ٹکٹ کس نے جاری کیے ہیں۔

سپریم کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی جانب سے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا فارم بھی طلب کر لیا۔

عدالت کے تین رکنی بنچ نے الیکشن کمیشن کے نمائندے کوعدالت میں پیش ہو کر سینیٹ کے لیے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کے حوالے سے تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بتایا جائے 14 ویں ترمیم کتنے وقت میں پاس ہوئی اور کیا بحث ہوئی اس حوالے سے اٹارنی جنرل آفس ریکارڈ پیش کرے اور عدالت نے 1997 میں ہونے والی 14 ویں ترمیم کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔

عدالت نے سلمان اکرم راجہ کو اپنے دلائل کل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔