لیبیا میں مہاجرین کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں جاں بحق 11 افراد کی لاشوں کو پاکستان لانے کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا۔

سعودی عرب کی ائرلائن کا جہاز لیبیا سے براستہ جدہ لاشوں کو لے کر بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ائر پورٹ پہنچا۔

اطلاعات کے مطابق لاشوں کو وصول کرنے کے لیے ائرپورٹ پہنچنے والے لواحقین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے اکثریت کا تعلق گوجر خان، گجرات، منڈی بہاؤالدین سمیت دیگر شہروں سے تھا۔

مزید پڑھیں:لیبیا:مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 11 پاکستانیوں سمیت 90 افراد جاں بحق

بینظیر انٹرنینشل ایئرپورٹ میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے ناقص انتظامات کئے گئے تھے جہاں لواحقین کے ساتھ کارگو گیٹ پر انتہائی ناروا سلوک کیا گیا اور میڈیا نمائندوں کو بھی دروازے میں ہی روک لیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق ایمبولینسوں کو بھی اندر جانے سے روک دیا گیا تھا۔

بعدازاں قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میتوں کولواحقین کے حوالے کردیا گیا۔

ڈائریکٹر لیبین کرائسز سیل شوزب عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر لیبین کرائسز سیل سجاد حیدر خان نے ائرپورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا میں 31 جنوری کو کشتی ڈوبنے کا حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 13 پاکستانی جاں بحق ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 11 پاکستانیوں کی میتیں لائی گئی ہیں۔

وزارت خارجہ نے تمام اخراجات اٹھائے اور میتیوں کو ورثا کے حوالے کر دیے گئے جس کے بعد آبائی علاقوں کو روانہ کردیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ایک ہفتے تک مزید لاشوں کو پاکستان منتقل کر دی جائیں گی۔

یاد رہے کہ 2 فروری کو رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ لیبیا کے سمندر میں مہاجرین کی کشتی کے حادثے میں 11 پاکستانی جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ کشتی میں 90 افراد سوار تھے۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے ترجمان اولیویا ہیڈن کا کہنا تھا کہ مہاجرین کو لے جانے والی کشتی لیبیا کے ساحل زوارا کے سمندر میں ڈوب گئی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ 'کم ازکم 90 افراد ڈوب گئے اور 10 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں' جن میں سے 11 افراد کا تعلق پاکستان سے ہے۔