متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کرنے والی خاتون کے بھائی عبدالصمد کی شکایت پر پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی۔

ایس ایچ او گلشن راشد علوی کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر عبدالصمد کی جانب سے انھیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کی شکایت پر درج کردی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر تعزیرات پاکستان کی بھتہ، خوف پھیلانے اور ڈکیتی کی دفعات 384، 385، 392 اور 34 کے تحت درج کردی گئی ہے۔

درخواست گزار 23 سالہ عبدالصمد نے اپنی شکایت میں کہا کہ انھیں سلمان مجاہد بلوچ نے 30 اکتوبر کو مبینہ طور پر گلشن اقبال میں واقع ان کے گھر سے اٹھایا اور اپنے حلقے بلدیہ ٹاؤن کے علاقے عابد آباد لے گیا اور تشدد کیا۔

بعد ازاں مجاہد بلوچ، انھیں مبینہ طور پر ڈیفنس فیز 6 لے گیا اور مبینہ طور پر 40 لاکھ روپے کی عدم ادائیگی کی صورت میں انتہائی نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔

سلمان مجاہد بلوچ کے خلاف جنسی استحصال کے حوالے سے شکایت درج کرنے کے سوال پر ایس ایچ او راشد علوی نے کہا کہ چونکہ یہ واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا ہے اس لیے متاثرہ خاتون کو کیپٹل پولیس سے رابطہ کرنا چاہیے۔

خیال رہے کہ مذکورہ خاتون نے ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کے خلاف درخواست دیتے ہوئے الزامات عائد کیے تھے اور تحفظ کا بھی مطالبہ کیا تھا تاہم خاتون اب شادی کرچکی ہیں۔

سلمان مجاہد بلوچ ان الزامات کو مسترد کرچکے ہیں۔

قبل ازیں گزری پولیس نے سلمان مجاہد بلوچ کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے کارکن کو ڈیفنس کےعلاقے میں ڈرانے کے الزام پر ایف آئی آر درج کردی تھی۔