وفاقی کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور اسٹیل ملز کی نجکاری کا پلان منظور کرلیا۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے پہلے اجلاس میں حکومت کا مدت پوری کرنے سے قبل پلان مکمل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ نجکاری بورڈ پہلے ہی نجکاری کے پلان کی منظوری دے چکا ہے۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز نے اجلاس کو پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی نجکاری کے پلان کے بارے میں بریفنگ دی۔

اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز نے ڈان نیوز کو بتایا کہ کابینہ کمیٹی نے دونوں اداروں کے پلان منظور کر لئے ہیں اور ان دنوں اداروں کے ملازمین کا خصوصی خیال رکھا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو نجکاری کیلئے دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جسمیں کور اور نان کور بزنس الگ الگ کئے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ کور بزنس کے49 فیصد حصص انتظامی قبضے کے ساتھ فروخت کئے جائیں گے اور پی آئی اے کے ذمے تین سو ارب روپے سے زائد کے بقایا جات غیر کور کمپنی کو منتقل کئے جائیں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کو 30 سال لیز پر دیا جائے گا جبکہ اسٹیل ملز کے ذمے180 ارب روپے سے زائد کے بقایا جات بھی حکومت اپنے کھاتے میں رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں کے ملازمین رضاکارانہ علحدیگی کی اسکیم کی سہولت دی جائے گی جبکہ اسٹیل ملز کے ملازمین کے بقایا جات بھی ادا کئے جائیں گے۔

وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی بدانتظامی اور غفلت کے باعث دونوں ادارے بد حالی کا شکار ہوئے اور اسکے ملازمین کو نقصان پہنچا۔