کراچی:مقصود قتل کی ایف آئی آر میں چار پولیس اہلکار نامزد

اپ ڈیٹ 18 فروری 2018

ای میل

کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل میں ڈاکووں سے میبنہ مقابلے کے دوران گولی لگنے سے جاں بحق ہونے والے مقصود کی ایف آئی آر چار پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کرادی گئی۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ایس پی گلشن غلام مرتضیٰ بھٹو کا کہنا تھا کہ شارع فیصل پولیس نے تعزیرات پاکستان کے سیکشن 302 اور 34 کے تحت مقصود کے قتل کی ایف آئی آر پولیس پوسٹ کے انچارج اور دیگر تین اہلکاروں کے خلاف درج کرادی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر عدالت کے احکامات کی روشنی میں درج کرادی گئی ہے جبکہ متاثرہ خاندان نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ایس پی کا کہنا تھا کہ نامزد پولیس اہلکاروں کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا ہے تاہم کیس کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کی انوسٹی گیشن برانچ کو منتقل کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ مقصود کو 20 جنوری کو شارع فیصل میں پولیس کی جانب سے مبینہ مقابلے میں قتل کیا گیا تھا تاہم پولیس نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ پولیس کی وردی میں تین مبینہ ملزمان ایک کار میں سوار تھے۔

مزید پڑھیں:'پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والا مقصود بے گناہ تھا'

شارع فیصل میں جہاں پر مقصود کو قتل کیا گیا وہاں پر لوٹ مار کی بڑھتی ہوائی وارداتوں کے بعد پولیس کو تعینات کیا گیا تھا۔

پولیس نے اپنے ابتدائی موقف میں کہا تھا کہ معمول کے گشت پر موجود اہلکاروں نے صبح مشتبہ گاڑی کو روکا تو گاڑی میں سوار ملزمان نے پولیس پر فائرنگ شروع کردی تھی جس کے بعد پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ میں چاروں مبینہ ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان پولیس کے یونیفارم میں شہریوں سے لوٹ مار کرتے تھے جبکہ زخمی ملزمان میں سے بھی 2 نے پولیس کی یونیفارم پہنی ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ مبینہ ملزمان نے ایئرپورٹ کے قریب گرفتار ملزمان نے لوٹ مار کی تھی۔

پولیس کے مطابق شہریوں سے لوٹ مار میں ملوث گرفتار ملزمان کی شناخت عبدالرؤف، بابر اور علی کے نام سے کی گئی جبکہ پولیس کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے ملزم کا نام محمد مقصود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: شارع فیصل پر لوٹ مار کرنے والا گروہ گرفتار

ایس ایس پی کراچی ایسٹ ڈاکٹر سمیع اللہ کا کہنا تھا کہ اس وقت شارع فیصل میں اسٹریٹ کرائم کے واقعات میں اضافہ ہوچکا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ائرپورٹ سے آنے والے افراد بالخصوص بیرون ملک سے آنے والوں کو لوٹ لیا جاتا تھا جو خود محکمہ انسداد دہشت گردی اور پولیس کے اسپیشل برانچ کے اہلکار ظاہر کرتے تھے۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ گرفتار مبینہ ملزمان کا تعلق لاہور سے تھا جو گزشتہ سات برس سے جرائم میں ملوث تھے اور اسٹریٹ کرائم کے 50 واقعات میں شامل تھے۔

دوسری مقصود کی بہنوںہ نے پولیس کے موقف پر عدم اطمینان کرتے ہوئے اکلوتے بھائی کے قتل کا الزام پولیس پر عائد کیا تھا۔

خیال رہے کہ کراچی میں گزشتہ ماہ پیش آنے والے قتل کے واقعات میں مقصود کا قتل تیسرا بڑا واقعہ تھا جبکہ دیگر دو واقعات میں نقیب اللہ محسود اور نوجوان طالب علم انتظار احمد کو بھی مبینہ طور پر پولیس نے قتل کیا تھا۔