شانگلہ میں براری خوار کے علاقے میں الپوری تھانے کی حدود میں 12 سالہ لڑکے کو 5 افراد نے مبینہ طور پر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔

پولیس اہلکار نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نوجوان لڑکے نے الپوری تھانے میں آکر اطلاع دی کہ اسے اس کی رہائش گاہ بارادی خوار جنگل کے قریب 5 افراد کی جانب سے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکے کی شکایت پر مقدمہ درج کرلیا گیا تھا جبکہ میڈیکل ٹیسٹ بھی کرایا گیا۔

مزید پڑھیں: گینگ ریپ: تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی

ان کا کہنا تھا کہ بچے کی میڈیکل رپورٹ میں نوجوان لڑکے کے ساتھ ریپ کیے جانے کی تصدیق ہوگئی تاہم مزید معلومات کے لیے ڈی این اے نمونے کو پشاور بھیج دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعے پر مقدمہ درج کیے جانے کے بعد تمام 5 افراد کو گرفتار کرکے انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے ان پانچوں افراد کو 3 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاڑکانہ میں 13 سالہ بچی کے گینگ ریپ میں ملوث 2 مبینہ ملزمان گرفتار

پولیس نے ملزمان کی پہچان باقرعالم، خورشید، فرحاد، عثمان اور غنی کے نام سے کی۔

ضلعی پولیس افسر راحت اللہ خان نے ڈان کو بتایا کہ لڑکے کی شکایت کے بعد پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کرکے ملزمان کو گرفتار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شانگلہ پولیس اس قسم کے جرائم سے نمٹنے کے لیے پر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں 9 جنوری کو کچرے کے ڈھیر سے ایک 6 سالہ بچی زینب کی لاش ملی تھی، جسے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، اس واقعے نے پورے ملک کو جنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، جبکہ واقعے کا چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی ازخود نوٹس لیا تھا۔

اس کے بعد بھی ملک میں بچوں کے ساتھ ریپ کے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں، جن میں سے ایک 24 جنوری کو ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ میں پیش آیا جہاں پانچویں جماعت کی طالبہ کو چچا زاد بھائی نے مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد حالت غیر ہونے پر گھر کے پاس پھینک دیا تھا۔