پولیس نے القائدہ برصغیر سے منسلک انتہائی مطلوب دہشت گرد گرفتار کرنے کا دعوٰی کردیا جو سفورہ گوٹھ سانحے میں ملوث مجرمان کا قریبی ساتھی بھی رہا ہے۔

خیال رہے کہ مئی 2015 میں سفورہ گوٹھ کے قریب اسماعیلی کمیونٹی کی بس پر دہشت گردوں کے حملے میں 18 خواتین سمیت 47 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) کراچی مغرب عمر شاہد حامد نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزم احسن محسود عرف روشن دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے اور اس نے 2013 میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی ریکی کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔

خفیہ اطلاع پر سپرنٹنڈنٹ پولیس اورنگی عابد علی بلوچ کی سربراہی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے احسن کو گرفتار کیا اور بھاری تعداد میں بارودی مواد بھی بر آمد کیا۔

مزید پڑھیں: سانحہ صفورا: 4 اعلیٰ تعلیم یافتہ ملزمان گرفتار

ایس ایس پی عمر کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم آئی ٹی کا ایکسپرٹ ہے جس نے گلشن اقبال کے ایک آئی ٹی انسٹیٹیوٹ سے ڈپلومہ اور ڈی ایچ اے کے نجی کالج سے ڈگری لے رکھی ہے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ احسن محسود کا بھائی علی محسود عرف معاز بلوچستان کے علاقے وادھ میں اپنے چچا حسن محسود کے ہمراہ دہشت گرد نیٹ ورک چلاتا ہے اور القائدہ بر صغیر کا ایک سرگرم رکن بھی ہے۔

ایس ایس پی عمر نے ڈان کو بتایا کہ گرفتار ملزم سانحہ صفورہ کے مرکزی ملزم سعد عزیز اور حملے کے ماسٹر مائنڈ طاہر عرف سائیں کا قریبی ساتھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم احسن محسود نے ڈی ایچ اے کے معروف شوٹنگ کلب میں سعد عزیز کے ہمراہ گولی چلانے کی پریکٹس بھی کی تھی۔

نئے سیل کا قیام

ایس ایس پی عمر کا کہنا تھا کہ جب سعد عزیز، طاہر سائیں اور دیگر نے داعش میں شمولیت اختیار کرکے اسماعیلی کمیونٹی پر حملہ کیا تو احسن محسود القائدہ برصغیر ہی سے منسلک رہے تھے۔

سینیئر افسر کا ماننا ہے کہ احسن نے کراچی آکر القائدہ برصغیر کا نیا سیل قائم کیا تھا جس کا نشانہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور دیگر کمیونٹیز پر فرقوں کی بنیاد پر حملے کرانا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: ’داعش‘ کے 3 مبینہ دہشت گرد گرفتار کرنے کا دعویٰ

انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران ملزم نے کئی دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

لیپ ٹاپ فنڈز

ایس ایس پی کے مطابق احسن محسود کو 2011 میں وزیرستان ٹریننگ کے لیے بھیجا گیا تھا اور بعد میں اس نے مزید ٹریننگ کوئٹہ کے علاقے کچلک میں حاصل کی جہاں اس کی ملاقات عرب ممالک سے آئے ڈاکٹر سعد اور دیگر 6 دہشت گردوں سے ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اس نے عبدالقادر عرف حاجی بلوچ سے ملاقات کی جس نے اسے 1 لاکھ 50 ہزار روپے لیپ ٹاپ خریدنے کے لیے دیے تھے۔

مزید پڑھیں: کراچی: دہشت گردی کی بڑی کارروائی ناکام، اسلحہ بردار شخص گرفتار

انہوں نے بتایا کہ حاجی بلوچ اور ان کے بیٹے زبیر دہشت گردی اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں ملوث تھے۔

بم بنانے کی فیکٹری

ایس ایس پی عمر نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزم کے چچا حسن محسود نے اپنی بیگم کی وفات کے بعد اپنے بچوں کو گاؤں بھیج کر گلشن اقبال میں واقع ان کی رہائش گاہ کو بم بنانے کی فیکٹری میں تبدیل کردیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ القائدہ بر صغیر کے تربیت یافتہ دہشت گرد جن میں سعد ہاشمی، عمر بنگالی، عثمان شامل ہیں، اس بم بنانے کی فیکٹری کو چلاتے تھے۔

خیال رہے کہ احسن محسود کا نام محکمہ انسداد دہشت گردی کے 2015 میں انتہائی مطلوب کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

ایس ایس پی عمر نے انکشاف کیا کہ علی محسود نے اس کے بھائی احسن کی 2013 میں طاہر سائیں سے بہادر آباد میں ملاقات کرائی تھی جہاں اس نے اسے اسلحہ اٹھانے پر قائل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: رینجرز اور سی ٹی ڈی کی کارروائی، 8 ’دہشت گرد‘ ہلاک

ان کا کہنا تھا کہ فروری 2013 میں آغاز کرتے ہوئے احسن نے اپنے ساتھی طاہر سائیں کے ساتھ مل کر رینجرز اہلکار، بوہرہ کمیونٹی اور سیاسی کارکنان پر حیدر آباد اور کراچی میں کئی حملے کروائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2013 ہی میں گرفتار ملزم نے سعد عزیز اور دیگر کے ساتھ مل کر صدر کے علاقے میں ایک گاڑیوں کے شو روم میں حملہ کیا تھا۔

دریں اثناء انسپیکٹر جنرل سندھ اے ڈی خواجہ نے پولیس کو احسن محسود کی گرفتاری پر 5 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کردیا۔