سندھ کی معروف سیاسی شخصیت جام ساقی انتقال کرگئے۔

ان کے اہل خانہ سے تعلق رکھنے والے قریبی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ جام ساقی کا انتقال گردوں کے فیل ہوجانے کے باعث ہوا۔

ذرائع نے بتایا کہ انہیں گردوں کے علاوہ مختلف امراض لاحق تھے جن میں ہارٹ اور ذیابطیس بھی شامل ہیں۔

مرحوم کے اہل خانہ کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ان کی تدفین حیدر آباد میں کی جائے گی۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سینیئر سیاستدان کامریڈ جام ساقی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ جام ساقی نے آمریت اور آمروں کے خلاف آواز بلند کی جبکہ جام ساقی عوامی جدوجہد کرنے والوں کے لیے ایک مثال بن کر ابھرے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ جام ساقی کی جمہوریت کے لیے گراں قدر کاوشوں اور جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور غمزدہ خاندان کو صبر عطا فرمائے۔

جام ساقی کے انتقال پر معروف ٹی وی اینکر اور سینئر صحافی حامد میر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں جام ساقی اور مرحوم بینظیر بھٹو کی یاد گار تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی سیاست کے حوالے سے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

حامد میر نے بینظیر بھٹو اور جام ساقی کی جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور کی تصویر شیئر کی تھی جس میں دونوں سیاست دان فوجی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران موجود تھے۔

جام ساقی 31 اکتوبر 1944 کو سندھ کے معروف سیاسی خاندان میں پیدا ہوئے جو سیاست میں بائیں بازو سے تعلق رکھتا تھا، ایک کمیونسٹ کے طور پر وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

جام ساقی کو 1978 میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے زمانے میں گرفتار کیا گیا تھااور ان پر 80 کی دہائی میں فوجی عدالت میں کیس چلایا گیا، مذکورہ عدالت میں پیش ہو کر بینظیر بھٹو نے جام ساقی کے حوالے سے عدالت کو بتایا تھا کہ ’وہ ریاست کے ایک محبِ وطن شہری ہیں اور انہیں لازمی طور پر رہا کیا جانا چاہیے‘۔

تاہم انہیں جیل بھیج دیا گیا اور انہوں نے 1988 تک تقریبا 7 سال قید میں گزارے، ان کی پہلی اہلیہ نے اپنے خاوند پر تشدد کی خبروں کے بعد خود کشی کرلی تھی۔

بعد ازاں 1990 میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں شمولیت اختیار کی جبکہ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی کونسل کے رکن بھی رہے۔