نواز شریف پر جوتا پھینکنے کا واقعہ: 3 ملزمان 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

ای میل

لاہور: سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف پر جوتا پھینکے کے معاملے میں گرفتار 3 ملزمان کو لاہور کی مقامی عدالت نے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف مفتی محمد حسین نعیمی کی برسی سے متعلق دارالعلوم نعیمیہ میں منعقدہ تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے جب وہ خطاب کرنے اسٹیج پر آئے تو ایک شخص نے انہیں جوتا دے مارا تاہم جوتا ان کے کندھے اور بائیں کان کو چھو کر پیچھے جا گرا، واقعے کے بعد جوتا پھینکنے والے شخص اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

لاہور پولیس نے سابق وزیر اعظم نواز شریف پر جوتا پھینکے کے الزام میں گرفتار ملزمان عبدالغفور، منور حسین اور محمد ساجد کو مقامی عدالت میں پیش کیا۔

مزید پڑھیں: دارالعلوم نعیمیہ میں نوازشریف پر جوتے سے حملہ

عدالت میں پیشی کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ تھانہ قلعہ گجر سنگھ پولیس کی جانب سے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں 14 روزہ ریمانڈ پر جیل بھجوادیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل نواز شریف پر جوتا پھینکنے کا مقدمہ تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں درج کیا گیا تھا۔

پولیس افسر وسیم عبیداللہ کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمے میں دفعہ 355 اور 506 شامل کی گئیں اور تینوں ملزمان کو اس میں نامزد کیا گیا۔

مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان عبدالغفور، منور حسین اور محمد ساجد کی جانب سے نواز شریف کے خلاف نعرے بازی کی گئی، ملزمان نے نواز شریف کی شہریت خراب کرنے اور بے عزت کرنے کے لیے جوتوں سے حملہ کیا، پولیس نے واقعے کے حوالے سے بتایا کہ ایک شخص نے جوتا پھینکا جو نواز شریف کے کندھے اور سینے کے پاس لگا جبکہ ملزمان نے مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے نعرے بازی بھی کی۔

جوتا پھینکنے کے خلاف مذمتی قرار جمع

دوسری جانب نواز شریف پر جوتا اور وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرار داد جمع کرائی گئی۔

مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان نواز شریف پر جوتا اور خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے کی مذمت کرتا ہے۔

قرار داد میں کہا گیا کہ بعض قوتیں نواز شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوف زدہ ہیں کیونکہ نا اہلی کے بعد بھی ان کی مقبولیت میں کمی واقع نہیں ہو رہی بلکہ مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ: خواجہ آصف پر سیاہی پھینک دی گئی

قرار داد کے متن کے مطابق اس واقعے سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے اور ایسے خطرناک واقعات کی حوصلہ افزائی کرنا شرم کا باعث ہے۔

قومی اسمبلی میں جمع قرارداد میں کہا گیا کہ مہذب معاشرے میں احتجاج کا ایسا طریقہ کار ہرگز درست نہیں ہے، ہر کسی کو ایسے واقعات کی مذمت کرنی چاہیے ناکہ اس پر سیاست چمکائی جائے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ایک سیاسی جماعت کی جانب سے نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی گھناؤنی سازش کی جارہی ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے، لہٰذا سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اپنے کارکنوں کو اخلاقیات کا درس دیں اور ان کو منتخب نمائندوں کی عزت و تکریم کرنے کی ہدایات دی جائے۔