آپ کی وہ عام غلطیاں جو دانتوں کو پیلا کردیں

13 مارچ 2018

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

دانتوں کا انسانی صحت میں اہم کردار ہوتا ہے کیوں کہ صحت مند دانتوں سے ہی انسان ایسی غذائیں کھاسکتا ہے، جو اسے بیماریوں سے دور رکھیں۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ دانتوں کو جگمگاتے دیکھنا بھی ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے جو شخصی خوبصورتی کو بڑھانے یا گھٹانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

تاہم دیکھا گیا ہے کہ کئی لوگ دانتوں کی فکر کیے بغیر ایسی عادتیں اپنالیتے ہیں جو دانتوں کو پیلاہٹ کا شکار کرکے بدنمائی کا باعث بنتی ہیں۔

اگر درج ذیل عادتیں آپ بھی اپنا چکے ہیں تو انہیں ترک کردینا بہتر ہے ورنہ دانتوں کی سفیدی کو خیرباد کہہ دینا زیادہ بہتر ہے۔

ماﺅتھ واش کا بہت زیادہ استعمال

دانتوں کے لیے سب سے سخت ماحول منہ خشک ہونا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ منہ میں پائے جانے والا لعاب دہن یا تھوک مختلف منرلز، انزائمے اور آکسیجن کمپاﺅنڈ کا مرکب ہوتا ہے جو منہ کے اندر ہائیڈروجن یا تیزابیت کا توازن قدرتی طور پر بحال رکھتا ہے، یعنی ایسے تیزابی اثرات کم کرتا ہے جو دانتوں کی سطح ختم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ لعاب دہن دانتوں پر چمٹ جانے والے بیکٹریا کو بھی صاف کرتا ہے جبکہ سطح پر داغ جمنے نہیں دیتا۔ اس وقت زیادہ تر دستیاب ماﺅتھ واش میں تیزابیت بہت زیادہ ہوتی ہے اور ان کا اکثر استعمال دانتوں کی قیمتی سطح کو تباہ کرسکتا ہے جس کا نتیجہ دانتوں کی پیلاہٹ کی شکل میں نکلتا ہے۔

تیزابی پھلوں اور سبزیوں کو پسند کرنا

جیسے ماﺅتھ واش میں تیزابیت دانتوں کی سطح پتلی کرتی ہے اسی طرح غذا میں موجود ایسڈز بھی یہی کام کرتے ہیں۔ ترش پھل جیسے ٹماٹر، انناس، سرکہ، سافٹ ڈرنکس اور مالٹے وغیرہ ایسا کرسکتے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ان غذاﺅں کو کھانا چھوڑ دیں مگر توازن یا اعتدال میں کھانا جبکہ ان کے استعمال کے بعد پانی زیادہ پینا بہتر ہوتا ہے۔ زیادہ پانی پینا دانتوں پر داغ لگنے کا امکان بھی کم کرتا ہے، خاص طور پر بلیو بیریز، سیاہ چائے وغیرہ پینے کا شوق ہونے پر۔

ہر وقت کافی یا چائے پینا

محققین یہ تو مانتے ہیں کہ کافی پینے کی عادت صحت کے لیے فائدہ مند ہے مگر یہ مشروب دانتوں کے لیے ضرور سخت ثابت ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق روزانہ 2 سے 3 کپ کافی پینے سے دانتوں کی سطح پر داغ جمنے لگتے ہیں بلکہ وہ جم جاتے ہیں جس کے نتیجے میں دانت پیلے ہوجاتے ہیں، خاص طور پر اگر اس مشروب کو پینے کے بعد کلیاں نہیں کرتے۔

تمباکو نوشی

سیگریٹ میں موجود کیمیکلز دانتوں پر داغ لگانے کا باعث بنتے ہیں کیونکہ یہ سطح پر چپک جاتے ہیں، جتنا زیادہ آپ تمباکو نوشی کریں گے، یہ داغ اتنے ہی نمایاں ہوں گے۔ تمباکو نوشی سے مسوڑوں کے امراض یا منہ کی خشکی جیسے عارضے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس سے بچاﺅ اس عادت کو ترک کرنے سے ہی ممکن ہے۔

خلال نہ کرنا

یہ سنت نبوی اپنانا دانتوں کو جگمگانے کے لیے بہت ضروری ہے، جبکہ اس سے دوری دانتوں کی سطح پر پلاک کے اجتماع کا باعث بن سکتا ہے جس سے حفاظتی تہہ پتلی ہوتی ہے جبکہ بیکٹریا کی مقدار بڑھنے سے دانت زرد ہوجاتے ہیں۔

دانتوں پر مناسب طریقے سے برش نہ کرنا

دن بھر میں 2 بار برش کرنا تو ضروری ہے مگر زیادہ دباﺅ اور رفتار کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دانت صحیح طریقے سے صاف کررہے ہیں۔ اگر برش کو بہت زیادہ سختی یا تیزی سے کیا جائے تو دانتوں کی پتلی سطح ختم ہوسکتی ہے اور ڈینٹین تہہ سامنے آسکتی ہے۔