قیمتیں بڑھنے کے باوجود کاروں کی فروخت میں 23 فیصد اضافہ

اپ ڈیٹ 13 مارچ 2018

ای میل

کراچی: مقامی طور پر تیار ہونے والی کاروں، کمرشل گاڑیوں، وین اور جیپ کی قیمتوں میں اضافے کے باجود سالانہ پیداوار 23 فیصد اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 70 ہزار 345 یونٹس رہی۔

پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی اے ایم اے) کے مطابق فروری میں 15 فیصد یعنی 22 ہزار 654 یونٹس تیار کیے گئے جو سال کی پہلی سہ ماہی میں غیر معمولی ہدف ہے۔

یہ پڑھیں: مہران سے بھی سستی اور بہتر گاڑی خریدنا پسند کریں گے؟

دوسری جانب ٹاپ لائن سیکیورٹی کے رائے عمر بشارت نے کہا کہ درآمدی قوانین میں تبدیلی، کم شرح سود پر قرضے کی سہولت اور آن لائن رائڈنگ سروس کے باعث طلب میں اضافہ ہوا۔

پاک سوزوکی کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایم سی ایل) کی فروخت میں سالانہ 25 فیصد اضافہ ہوا۔

پی اے ایم اے کے مطابق پاک سوزوکی مہران کی فروخت میں 30 فیصد، ویگن میں 27 فیصد، کلٹس میں 23 فیصد اضافہ رہا جو فروخت میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں سالانہ 96 ہزار 62 یونٹس کا اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا کی یہ منفرد گاڑی خریدنا پسند کریں گے؟

ہونڈا کار کی فروخت ماہانہ 20 فیصد کے ساتھ 4 ہزار 501 یونٹس رہی اس طرح کمپنی کے اشاریوں میں 33 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور 33 ہزار 669 یونٹس فروخت ہوئے۔

پی اے ایم اے کے مطابق ٹویوٹا کی جانب سے محدود وسائل کی وجہ سے ان کی فروخت میں کمی دیکھنے میں آئی جو سالانہ 8 فیصد جبکہ یونٹس کی فروخت میں ماہانہ 2 فیصد کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں: آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 100 ارب روپے اضافی شامل کرنے کا امکان

فروری میں ٹریکٹر کی فروخت میں 11 فیصد اضافہ ہوا، الغازی ٹریکٹرز کی پیداوار میں 40 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور ٹریکٹر کی سالانہ فروخت 44 ہزار 627 یونٹس رہی۔

ٹوٹل ٹرک مالی سال 18-2017 میں جولائی سے فروری تک 5 ہزار 859 یونٹس فروخت ہوئے جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ تعداد 4 ہزار 677 رہی۔


یہ خبر 13 مارچ 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی