بلوچستان کے علاقے قلعہ سیف اللہ میں ملک میں مختلف قومیتوں کو برابری کے حقوق کے لیے مطالبہ اور احتجاج کرنے والے پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرادیا گیا۔

قلعہ سیف اللہ کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کی جانب سے پی ٹی ایم کے رہنماؤں منظور پشتین، حاجی ہدایت اللہ، علی وزیر، حاجی ہدایت اللہ، خان زمان کاکڑ اور بلوچستان کے سابق وزیر اور رکن قومی اسمبلی نواب ایاز خان جوگیزئی سمیت دیگر کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کردی گئی۔

پی ٹی ایم کے رہنماؤں کے خلاف تعزیرات پاکستان کے سیکشن 153(فساد کے لیے اکسانے کی غرض)، 153 اے (مختلف گروپوں کے درمیان تفرقے کو ہوا دینے) اور 34 (ایک مشترکہ مقصد کے لیے کئی افراد کی جانب سے عمل کرنا) کے ساتھ 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پی ٹی ایم کی جانب سے مبینہ طور پر جبری گمشدگی، غیر قانونی گرفتاریوں اور قتل کے علاوہ پختون برادری کو مرکزی حیثیت دینے کے لیے ژوب اور قلعہ سیف اللہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق پی ٹی ایم نے کراچی میں ماورائے قانون پولیس مقابلے میں قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود کے قتل کے خلاف اسلام آباد میں پہلا احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی کے نیویارک ٹائمز میں شائع مضمون کے مطابق نقیب اللہ محسود کا قتل پختون نوجوانوں کو علاقے میں جاری دہشت گردی کے باعث 16 سال سے جاری تناؤ اور احتجاج کے متحد ہونے کا مرکزی نقطہ تھا۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخو (کے پی) اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، کئی افراد حراست میں لینے کے علاوہ کئی افراد کو ماورائے قانون قتل کیا گیا اور جبری گم شدگیوں کے کیسز بھی سامنے آئے۔

خیال رہے کہ فاٹا بالخصوص جنوبی وزیرستان میں متاثر ہونے والے افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پی ٹی ایم کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران فاٹا سے 32 ہزار پختون لاپتہ ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی جدجہد کا مقصد لاپتہ افراد کو آئین کے تحت عدالتوں کے سامنے پیش کرنے کو یقینی بنانا ہے۔