لاہور کے سیشن کورٹ نے 3 سال قبل قتل ہونے والی اداکارہ عبیرہ کے قتل کیس کا فیصلہ سنا تے ہوئے ماڈل گرل عظمیٰ راؤ عرف طوبیٰ کو سزائے موت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔

سماعت کے دوران عظمیٰ راؤ اپنی دو سالہ بچی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئی جہاں ان کے خلاف فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج عائشہ رشید نے سنایا۔

عدالت نے کیس میں عظمیٰ راؤ کو سزائے موت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی اور دیگر دو ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔

خیال رہے کہ مارچ 2015 میں ماڈلنگ کے لیے گھر سے نکلنے والی طالبہ عبیرہ کو زہر دے کر قتل کیا گیا تھا اور ان کی لاش سوٹ کیس میں بند کرکے شیراکوٹ کے علاقے میں واقع بس اڈے پر پھینک دی گئی تھی۔

ادکارہ کے قتل کیس کا چالان لاہور کے شیراکوٹ پولیس نے 2015 میں جمع کروایا تھا۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پولیس نے مرکزی ملزمہ عظمیٰ عرف طوبیٰ کو حراست میں لیا تھا، بعدازاں ملزمہ کی نشاندہی پر مزید 2 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس نے مقدمے میں تین ملزمان عظمیٰ ، حکیم ذیشان اور فاروق الرحمٰن کو نامزد کیا تھا۔

3 سال تک چلنے والے کیس میں عدالت نے مقدمے میں 34 گواہان کی شہادت قلمبند کی تھی۔

عبیرہ کے قتل کے الزام میں تینوں ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور موبائل ڈیٹا سے گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق دوران تفتیش ملزمان نے نجی چینل کے کیمرہ مین کو بھی قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔