اسلام آباد: کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں جعلی پولیس مقابلے کے دوران قتل کیے جانے والے نقیب اللہ محسود سے متعلق از خود نوٹس کیس میں مفرور ملزم سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر اپنے بینک اکاؤنٹ کھولنے کی استدعا کردی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ماورائے عدالت قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بتایا کہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا ایک اور خط عدالت کو موصول ہوا ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ راؤ انوار نے عدالت سے التجا کی کہ ان کے بینک اکاؤنٹ کھولا جائے تاکہ وہ اس کی مدد سے عدالتی کارروائی آگے بڑھا سکیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سابق ایس ایس پی ملیر کی جانب سے موصول ہونے والا یہ خط اصلی ہے یا نقلی اس کا فیصلہ نہیں ہوسکا، لیکن پھر بھی اس خط کو ماورائے عدالت قتل ازخود نوٹس کیس کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ راؤ انوار کے کیس میں بس رپورٹس عدالت کو موصول ہو رہی ہیں، لیکن اس کیس میں کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

سیکیورٹی اداروں نے عدالت کو بتایا کہ تمام مشتبہ افراد نے اپنے موبائل فونز بند کردیئے ہیں، جس کی وجہ سے کیس میں کسی بھی طرح کی پیش رفت ممکن نہیں ہو پارہی۔

سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) حکام کا کہنا ہے کہ وہ سندھ پولیس کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ ادارے کے پاس محدود تکنیکی وسائل ہیں، تاہم وہ پھر بھی اس میں سندھ پولیس کی معاونت کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا آئی ایس آئی اور ایم آئی سندھ پولیس کی معاونت کر رہی ہے جس پر انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس اللہ ڈنو خواجہ کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں کی جانب سے معاونت کی جارہی ہے۔

آئی جی سندھ نے عدالت کو مزید بتایا کہ پولیس کی جانب سے ٹرائل کورٹ میں چلان پیش کر دیا گیا ہے جبکہ اس کیس کی پہلی ایف آئی آر کو منسوخ بھی کر دیا ہے۔

انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ اب تک 24 ملزمان میں سے 10 ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے کیس کی سماعت 16 مارچ تک کے لیے ملتوی کردی۔

نقیب اللہ محسود کا قتل

واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو 13 جنوری کو ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاص خیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے اس وقت الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جنگھوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔

مزید پڑھیں: نقیب اللہ کے اہل خانہ نے راؤ انوار سے ’سمجھوتے‘ کی تردید کردی

تاہم اس واقعے کے بعد نقیب اللہ کے ایک قریبی عزیز نے پولیس افسر کے اس متنازعہ بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقتول حقیقت میں ایک دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا شوق تھا۔

بعد ازاں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر یہ معاملہ اٹھا تھا جس کے بعد وزیر داخلہ سندھ اور بلاول بھٹو نے واقعے کا نوٹس لیا تھا اور تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

تحقیقات کے حکم کے بعد ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی کی سربراہی میں ایک تفتیشی کمیٹی بنائی گئی تھی، جس میں ڈی آئی جی شرقی اور ڈی آئی جی جنوبی بھی شامل تھے۔

ابتدائی طور پر راؤ انورا اس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے اور بیان ریکارڈ کرایا تھا، تاہم اس دوران آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے احکامات کی روشنی میں انہیں معطل کردیا گیا تھا۔

نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے بعد ملک بھر میں محسود قبائل کی جانب سے مظاہروں کا آغاز کردیا گیا، جس میں مظاہرین کا کہنا تھا سابق ایس ایس پی کا بیان متنازع ہے کیونکہ نقیب اللہ محسود ماڈل بننے کا خواہشمند تھا اور اس کا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ماورائے عدالت قتل ازخود نوٹس: مفرور راؤ انوار کا پیغام میڈیا پر چلانے پر پابندی

19 جنوری کو چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے کراچی میں مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود کے قتل کا از خود نوٹس لے لیا۔

23 جنوری کو نقیب اللہ محسود کے والد کی مدعیت میں سچل تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا جس میں راؤ انوار اور ان کی ٹیم کو نامزد کیا گیا۔

مقدمے میں نقیب کے والد نے موقف اپنایا کہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار 8 سے 9 سادہ لباس اہلکاروں کی مدد سے ان کے بیٹے کو لے گئے تھے۔

کراچی میں سہراب گوٹھ پر لگائے گئے احتجاجی کیمپ کے دورے کے موقع پر عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ تفتیشی ٹیم نے 14 گھنٹوں میں ثابت کیا کہ مقابلہ جعلی تھا اور نقیب اللہ بے گناہ تھا۔