اسلام آباد: پاکستان آرمی کے سربراہی جنرل قمر جاوید باجوہ نے زور دیا ہے کہ خطے میں امن کو بحال کرنے اور چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے مغربی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔

جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جاوید زارف سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پاک آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مغربی ایشیا میں امن کا دارومدار خطے کے ممالک کے درمیان تعاون پر ہے۔

خیال رہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے مخالف رہے ہیں جبکہ ماضی میں پاکستان سعودی عرب اور قطر، سعودی عرب اور ایران کے درمیان سیاسی تنازع کو ختم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوششیں کیں، تاہم اسلام آباد کبھی ریاض کو اپنی کوششوں کی مدد سے آمادہ نہیں کر پایا۔

مزید پڑھیں: پاک-ایران مشاورتی اجلاس:خطے میں پائیدار امن کیلئے تعاون کااعادہ

جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ برس تہران کا دورہ کیا تھا اور حال ہی میں پاک ایران تعلقات میں بہتری ان ہی کے سر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جاوید زارف تین روزہ دورے پر اسلام آباد میں موجود تھے جہاں انہوں نے پاکستان کی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ خطے میں تناؤ کو ختم کرنے اور ’افہام و تفہیم اور شمولیت‘ کے نئے دور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے یمن اور شام میں جاری خانہ جنگی کی مثال دیتے ہوئے طاقت کے ذریعے جیت حاصل کرنے اور اپنے آپ کو حالات سے دور رکھنے کے تجربات کرنے سے خبردار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘پاکستان اور ایران تعلقات دوبارہ بحال کرنے کیلئے تیار’

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور ایران پُر جوش اور پڑوسی ہیں اور ان کے پاس ایسی بنیاد موجود ہے جو انہیں شمولیت کے تصور پر خطے میں تبدیلی لاتے ہوئے مضبوط تر ہمسائہ بنانے کی جانب گامزن کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے ایک سیشن کے دوران سعودی عرب میں پاکستان فوج کی تعیناتی کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاک فوج کے دستے یمن جنگ میں شرکت کرنے کے لیے نہیں بلکہ سعوی عرب کی خودمختاری کی حفاظت کے لیے بھیجے جارہے ہیں‘۔

ایرانی وزیر خارجہ نے آرمی چیف سے ملاقات کے دوران پاکستان اور ایران کی جانب سے سرحد پر سیکیورٹی کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو بھی سراہا۔

پاک فوج کےشعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران پاک ایران سرحد کے دونوں جانب سیکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو بھی سراہا۔

مزید پڑھیں: ایران کی پاکستان کو چاہ بہار بندرگاہ منصوبے میں شمولیت کی پیشکش

خیال رہے کہ پاک ایران سرحد پر سیکیورٹی کی صورتحال ہمیشہ سے ہی اسلام آباد اور تہران کے درمیان ایک مسئلہ رہا ہے۔

گزشتہ برس مئی میں سرحد پار سے دہشت گردوں کے حملوں میں ایرنی سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد ایرنی وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کے دوران بھی پاکستان سے یقین دہانی طلب کی تھی کہ پاکستان دہشت گردوں کے حملے روکنے کے لیے اقدامات کرے۔

گزشتہ برس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ ایران کے دوران بھی پاک ایرانی سرحد پر سیکیورٹی کے حوالے سے امور زیرِ بحث آئے تھے۔

آرمی چیف نے دہشت گردوں کے سرحد پار حملے روکنے کے لیے بہتر سرحدی سیکیورٹی منیجمنٹ کی ضرورت پر زور دیا تھا۔


یہ خبر 14 مارچ 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی