صوبہ پنجاب: سکھ برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن کا بل متفقہ طور پر منظور

اپ ڈیٹ 14 مارچ 2018

ای میل

صوبہ پنجاب میں بسنے والی سکھ برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن کا بل ’پنجاب سکھ انند کراج میرج ایکٹ 2017‘ متفقہ طور پر پنجاب اسمبلی میں منظور کرلیا گیا۔

پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد پاکستان دنیا میں سکھوں کی شادیاں رجسٹر کرنیوالا پہلا ملک بن گیا ہے جبکہ یہ بل پنجاب حکومت کے پانچ پارلیمانی سالوں میں منظور ہونے والا پہلا پرائیویٹ ممبر بل ہے۔

خیال رہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بھارت میں آباد ہیں تاہم یہاں بھی سکھوں کے لیے علحیدہ سے کوئی میرج ایکٹ نہیں اور سکھوں کی شادیاں ہندو میرج ایکٹ کے تحت رجسٹر کی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: ترمیم شدہ ’ہندو میرج بل‘ قومی اسمبلی سے منظور

سکھوں کی شادی کے اندراج کے لیے بل اقلیتی رکن اسمبلی رمیش سنگھ آڑورا نے پیش کیا تھا۔

بل کے متن کے مطابق 18 سال سے کم عمر سکھ لڑکے یا لڑکی کی شادی رجسٹر نہیں ہوگی جبکہ باپ کی نسل میں سکھوں کی شادی نہیں ہو سکے گی۔

اس کے علاوہ شادی کے لیے 4 پھرے اور گورو گرنت (مذہبی) کتاب ضروری ہوگی۔

بل کے مطابق شادی کے اندراج کے لیے رجسٹرار مقرر ہوگا جبکہ شادی کی رجسٹریشن کا سرٹیفکیٹ بھی جاری ہوگا۔

بل پیش کرتے ہوئے رمیش سنگھ آڑوڑا نے کہا کہ دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جو سکھ میرج رجسڑ کرے گا، جبکہ بھارت میں ہماری ابھی تک شادیاں ہندو میرج ایکٹ کے تحت رجسڑ ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صدر کے دستخط : 'ہندو میرج بل' کو قانون کا درجہ حاصل

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل شادیوں کا اندراج گورداورے میں کروایا جاتا تھا۔

بعد ازاں پنجاب سکھ انند کراج میرج ایکٹ 2017 پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔