چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد کی حدود تک بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کا حکم دیا اور ریمارکس دیئے کہ ایڈووکیٹ جنرل بھیک مانگنے کے پوائنٹس اور جبری مشقت کو ختم کروا کر رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔

سپریم کورٹ میں گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو ٹیکا لگا کر سارا دن سڑکوں پر بٹھا دیا جاتا ہے اور بیمار بچے کو گود میں اٹھا کر بھیک مانگی جاتی ہے، یہ بچہ بڑا ہو کر کیسا شہری بنے گا جبکہ معصوم بچوں پر اس ظلم کو روکنا پورے معاشرے کا فرض ہے۔

چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے دوران استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کہاں ہیں، اٹارنی جنرل سے جمع کرائی گئی رپورٹ پرجواب طلب کر لیتے ہیں جبکہ انہوں نے کہا کہ جو کچھ عدالت کے اختیار میں ہو گا وہ ہم ضرور کریں گے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے ملازمہ پر 'تشدد' کا از خود نوٹس لے لیا

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کو بچوں کے ساتھ ظلم کرنے والے مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کی ہدایت کرتے ہوئے ایک ہفتے میں رپورٹ مانگ لی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ صرف اسلام آباد کے علاقوں پیر سوہاوا ، پیر ود ہائی، فروٹ منڈی، فیض آباد اور دیگر جگہوں پر پوائنٹس بنے ہوئے ہیں اور یہاں دیکھ لیں، کیا کچھ ہورہا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مری میں بچوں کو بھیک مانگتا دیکھ کر شرم آتی ہے، بچوں سے جبری مشقت لے کر ان کا استحصال ہو رہا ہے، یہ معصوم تو اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے جبکہ بحیثیت قوم یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مری میں بھی معصوم بچوں کو چیزیں بیچنے پر لگایا ہوا ہے، اس موقع پر عدالتی معاون زمرد خان نے کہا کہ پاکستان میں یتیم بچوں کی رجسٹریشن کا ایکٹ ہونا چاہیے۔

عدالتی معاون زمرد خان نے بتایا کہ گلی کوچوں میں اشیا بیچتے اور ورکشاپوں پر مشقت کرتے بچوں کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے، جبری مشقت کرنے والے بچوں کے والدین موجود ہیں، اصل مسئلہ لا وارث بچوں کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طیبہ تشدد کیس: ڈومیسٹک چائلڈ لیبر کے خاتمہ کا مجوزہ بل طلب

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم قانون کی تجویز کرسکتے ہے تاہم قانون بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے اور عدالتی معاون کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ کے پاس کوئی طریقہ کار ہے تو ہمیں دیں، وفاقی حکومت کو بھیجتے ہے۔

زمرد خان نے عدالت کو بتایا کہ میں آئندہ سماعت پر اس مجوزہ ایکٹ کا ڈرافٹ دے دوں گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لاوارث اور یتیم بچوں کے مسائل اور بچوں کی جبری مشقت کو بعد میں دیکھیں گے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی حد تک بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کا حکم دیا اور ریمارکس دیئے کہ ایڈووکیٹ جنرل بھیک مانگنے کے پوائنٹس اور جبری مشقت کو ختم کروا کر رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔

سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد از خود نوٹس کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردیا۔

خیال رہے کہ 4 جنوری 2017 کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن جج راجا خرم علی خان کے گھر میں کام کرنے والی کم سن ملازمہ پر مبینہ تشدد کے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

اس سے ایک روز قبل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج کے گھر میں مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والی کمسن ملازمہ کے والد نے جج اور ان کی اہلیہ کو 'معاف' کردیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے گھریلوں ملازمین کے بنیادی حقوق کے تحفظ سے متعلق پنجاب اسمبلی میں قانون سازی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں لیبر ڈپارٹمنٹ کے سیکریٹری، یونیسیف کا ایک رکن اور 3 وکلاء شامل تھے۔

مزید پڑھیں: طیبہ تشدد کیس میں نامزد جج کو کام سے روک دیا گیا

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جاوید حسن نے ایڈووکیٹ شیراز ذکا کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن کی سماعت کی تھی جس میں حکومت کی جانب سے گھریلوں ملازمین کے بنیادی حقوق پر عمل درآمد میں ناکامی پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے 2015 میں حکومت کو ہدایت کی تھی کہ گھریلوں ملازمین کی تنخواہوں کے حوالے سے پالیسی بنائیں۔

درخواست گزار نے زور دیا تھا کہ 3 سال گزر جانے کے باوجود حکومت نے اس پالیسی کو بنانے کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے۔