سپریم کورٹ نے عائشہ گلالئی کی پارلیمنٹ سے رکنیت خارج کرنے سے متعلق عمران خان کی درخواست خارج کردی۔

خیال رہے کہ سربراہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے عائشہ گلالئی کو ڈی سیٹ کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی تھی۔

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا عائشہ گلالئی نے استعفی دے دیا؟

انہوں نے عمران خان کا نام لیے بغیر ریمارکس دیے کہ آپ نے بھی پھچلے دنوں استعفی دے دیا تھا۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی عائشہ گلالئی کی معطلی کیلئےسپریم کورٹ میں درخواست

عمران خان کے وکیل سکندر بشیر میمن نے عدالت کو بتایا کہ عائشہ گلالئی نے پارٹی ڈسپلین کی خلاف ورزی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ عائشہ گلا لئی نے گزشتہ سال اگست میں پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا تاہم انہوں نے اب تک تحریک انصاف سے استعفی نہیں دیا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا عائشہ کی طرف سے دستخط شدہ استعفی نہیں دیا گیا جس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ میرا یہ مقدمہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عائشہ گلالئی نے مختلف ٹی وی چینلز کو انٹرویو میں کہا میں پارٹی چھوڑ رہی ہوں۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ عائشہ گلالئی کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ پارٹی میں واپس آنا چاہتی ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سیاسی لوگ اس طرح کے بیانات دیتے رہتے ہیں، اگر استعفی دیا گیا ہے تو پھر دیکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: عائشہ گلالئی کے سابق سیکریٹری قتل

سپریم کورٹ نے عمران خان کی اپیل خارج کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ غصہ نہیں کرتے، ہار جیت وکیل کا مقدر ہے، خوشی خوشی جائیں۔

واضح رہے کہ یکم اگست کو عائشہ گلالئی نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

بعدازاں پی ٹی آئی نے عائشہ گلالئی کو نوٹس بھیجے تھے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ان کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے معطل کرنے کی درخواست دی تھی جس کو رد کر دیا گیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 22 نومبر 2017 کو الیکشن کمیشن کی جانب سے رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کی معطلی کی درخواست کر رد کرنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔