اسلام آباد: سیکیورٹی کے نام پر بند سڑکیں فوری طور پر کھولنے کا حکم

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سیکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند سڑکوں کو فوری طور پر کھولنے کا حکم دیتے ہوئے چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( سی ڈی اے) سے 16 مارچ تک رپورٹ طلب کرلی۔

سپریم کورٹ میں فائیو اسٹار ہوٹل کی تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ بتایا جائے کہ سڑکیں کس نے اور کیوں بند کی ہیں، سیکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا لاہور میں اہم مقامات سے تمام رکاوٹیں ہٹانے کا حکم

سماعت کے دوران چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ سرینا اور میریٹ ہوٹل کے سامنے رکاوٹیں ختم کردی گئی ہیں، جس پر ہوٹل کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ میریٹ ہوٹل کے باہر تجاوزت ہٹانے سے پہلے ہمیں نہیں سنا گیا۔

جس پر چیف جسٹس نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سڑکیں اور راستے کھلوانے ہیں اور ہم آبپارہ تک پہنچ چکے ہیں جبکہ آپ ابھی تک میریٹ میں بیٹھے ہیں۔

اس موقع پر ایک وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ راولپنڈی کینٹ میں بھی کئی سڑکیں بند ہیں اور اس معاملے کو بھی دیکھا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے آپ ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کریں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے اس معاملے پر چیئرمین سی ڈی اے حکم دیا تھا کہ وہ سیرینا اور میریٹ ہوٹل کے سامنے سیکیورٹٰی کے نام پر بند سڑکیں کھولی جائیں اور اس حوالے سے عدالت میں رپورٹ پیش کریں۔

یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی کے نام پر موبائل فون سروس کی بندش غیر قانونی قرار

یاد رہے کہ اس سے قبل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور میں سیکیورٹی کے نام پر بند اہم مقام مقامات سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

اپنے حکم میں چیف جسٹس نے کہا تھا کہ عوام کو مزید مشکلات سے دوچار نہیں کیا جاسکتا، اگر اہم شخصیات کو سیکیورٹی مسائل کا سامنا ہے تو انہیں مسئلے کو کسی دوسرے طریقے سے حل کیا جائے اور عوام کا پریشانی میں نہ کیا جائے۔