خصوصی عدالت کا پرویز مشرف کا شناختی کارڈ،پاسپورٹ معطل کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 16 مارچ 2018

ای میل

سنگین غداری کیس میں اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے سربراہ پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ معطل کرنے کا حکم جاری کردیا۔

خصوصی عدالت نے کیس کے حوالے سے 8 مارچ کو ہونے والی عدالتی کارروائی کا تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ معطل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ پرویز مشرف کے نئے وکیل میجر ریٹائرڈ اختر شاہ کے مطابق پرویز مشرف عدالت میں حاضر ہونا چاہتے ہیں مگر انہیں سیکیورٹی کے حوالے سے تحفظات ہیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ پرویز مشرف سیکیورٹی کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست دیں، بصورت دیگر حکومت پرویز مشرف کا پاسپورٹ منسوخ کرکے انہیں انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کے اقدامات اٹھائے اور ان کی جائیداد ضبط کیے جانے کے حوالے سے آئندہ سماعت پر رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائے۔

خصوصی عدالت جسٹس یحیٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس یاور علی اور جسٹس طاہرہ صفدر پر مشتمل ہے۔

کیس کی آئندہ سماعت 29 مارچ کو ہوگی۔

مزید پڑھیں: خصوصی عدالت کا حکومت کو پرویز مشرف کی گرفتاری، حوالگی کا حکم

مشرف کی ’سیکیورٹی‘ کی درخواست

دوسری جانب پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ نے عدالتی احکامات کے بعد وزارت داخلہ کو پرویز مشرف کی وطن واپسی سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے ان کی ’فول پروف سیکیورٹی‘ کی درخواست کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف وطن واپس آکر عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں۔

وزارت داخلہ کو پرویز مشرف کے وکیل کی یہ درخواست 13 مارچ کو موصول ہوئی اور اس حوالے سے اس کی مشاورت جاری ہے۔

یاد رہے کہ وزارت داخلہ نے 5 اپریل 2013 کو پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا تھا، جس پر پرویز مشرف نے 6 مئی 2014 کو اپنا نام ای سی ایل سے نکلوانے کے لئے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ نے جون 2014 میں مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تھا جس پر وفاقی حکومت نے فیصلہ معطل کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

وفاق کی درخواست پر 23 جون 2014 کو سپریم کورٹ نے فیصلہ ہونے تک سندھ ہائی کورٹ کا حکم معطل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس، درخواست سماعت کیلئے مقرر

بعد ازاں 17 مارچ 2016 کو حکومت نے پرویز مشرف کا ای سی ایل سے نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے انھیں علاج کے کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

19 جولائی 2016 کو اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے غداری کیس میں سابق صدر کی جائیداد ضبط اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔

خصوصی عدالت کے 3رکنی بینچ نے سابق صدر کی گرفتاری تک کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم کی حاضری کے بغیر مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا اور قانون کے مطابق ملزم کا غیر حاضری پر ٹرائل نہیں ہوسکتا۔

تاہم پرویز مشرف کی اہلیہ اور ان کی بیٹی نے پرویز مشرف کی غیر حاضری پر ضبط کی گئی جائیداد کے خلاف درخواست دائر کی تھی، جسے خصوصی عدالت نے 8 مارچ کو سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔