کراچی کے علاقے ڈیفنس میں قتل ہونے والے 19 سالہ نوجوان انتظاراحمد کیس میں ملوث تین پولیس انسپکٹرز کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔

خیال رہے کہ انتظاراحمد کو 14 جنوری 2018 کو ڈیفنس کے علاقے میں اینٹی کارلفٹنگ سیل (اے سی ایل سی) کے 9 اہلکاروں نے اشارے پر گاڑی نہ روکنے پر پیچھا کرتے ہوئے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

ڈی آئی جی ڈاکٹر محمد امین یوسف زئی کی جانب سے 12 مارچ کو جاری کیے گئے احکامات کے مطابق اس وقت کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) اے سی ایل سی طارق محمود، انسپکٹرز اظہراحسان اور طارق رحیم کو برطرف کردیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق معطل انسپکٹرز مذکورہ واقعے کے حوالے سے ہونے والی محکمانہ تفتیش میں قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے تھے جس کے بعد انھیں برطرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

انکوائری رپورٹ میں کہا گیا کہ برطرف انسپکٹرز 'سنگین خلاف وزری' کے مرتکب ہوئے تھے کیونکہ وہ 'سادہ لباس' میں 'نجی اسلحے کے ساتھ غیرسرکاری گاڑی' میں سفر کر رہے تھے جو موجودہ قواعد کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:انتظار قتل کیس: انصاف نہ ملا تو قبرستان میں بیٹھ جائیں گے، والد

تفتیش میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کے غیرپیشہ ورانہ اقدام 19 سالہ لڑکے کی ناگہانی موت کا باعث بنے جو اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی جبکہ اس عمل سے 'پولیس کی شہرت کو بھی نقصان' پہنچا۔

خیال رہے کہ انتظار احمد ملائیشیا میں زیرتعلیم تھا اور وہ چھٹیوں میں پاکستان آئے تھے اور وہ اپنی کار میں دوست لڑکی کے ساتھ جارہے تھے جبکہ رپورٹس کے مطابق سادہ لباس پولیس اہلکاروں نے انھیں رکنے کا اشارہ کیا تاہم وہ نہیں رکے تو ان کا پیچھا کیا گیا اور فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔

سادہ لباس اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں انتظاراحمد جاں بحق ہوگئے جبکہ کار میں موجود ان کی دوست جائے وقوع سے بحفاظت فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں۔

ابتدائی طور پر پولیس کی جانب سے اس واقعے کو دہشت گری کا واقعہ قرار دیا جارہا تھا بعد ازاں درخشاں تھانے میں اس کا مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد مقتول انتظار کے والد اشتیاق احمد کی جانب سے چیف جسٹس اور آرمی چیف سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی گئی تھی جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملوث اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

14 جنوری کو اس کیس میں 6 اے سی ایل سی اہلکاروں کو حراست میں لیا تھا، جس میں 2 انسپکٹر، 2 ہیڈ کانسٹیبل اور 2 افسران بھی شامل تھے۔

گزشتہ ماہ واقعے کی شفاف تفتیش کے لیے دوسری مرتبہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی جہاں مقتول کے والد کے علاوہ عینی شاہد مدیحہ کیانی اور پولیس افسر مقدس حیدر بھی پیش ہوئے تھے۔