کراچی پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شہر میں ایک روز قبل قتل ہونے والے اوبر کے ڈرائیور کے واقعے میں رائیڈ کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے کاروبار میں حریفانہ اور ٹرانسپورٹ کے روایتی مسائل جیسے ممکنہ محرکات کار فرما ہوسکتے ہیں۔

کراچی ویسٹ زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ اوبر کے ڈرائیور کے قتل میں بڑھتے ہوئے کاروبار میں مسابقت سمیت ٹرانسپورٹ کے نظام میں موجود دیگر روایتی طریقے بھی ہوسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ مقتول کی شناخت مرزا شاہ نواز بیگ کے نام سے ہوئی تھی جو کراچی کی ناگن چورنگی میں محو سفر تھے جہاں ان پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں ان کے سر پر گولیاں لگی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی: دوران ڈکیتی مزاحمت پر کریم کا کیپٹن قتل

ڈی آئی جی عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ قتل کے محرکات ٹیکسی اور رکشا ڈرائیوروں کی اوبر اور کریم جیسی رائیڈ سروس کے خلاف روایتی دشمنی ہوسکتی ہے کیونکہ اس سروس نے گزشتہ کئی برسوں سے جاری ان کے ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں بڑا حصہ چھین لیا ہے۔

عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ اسی پہلو سے کراچی اور اسلام آباد میں پیش آنے والے اسی طرح کے دیگر واقعات کو بھی دیکھا جارہا ہے۔

انھوں نے اس واقعے میں 'ذاتی دشمنی' کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا اور کہاں اس قتل کے پیچھے 'ذاتی دشمنی' بھی ہوسکتی ہے۔

پولیس کو مذکورہ واقعے کے بعد موقعے سے 9 ایم ایم پستول کے خول بھی ملے تھے جس کو فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ یہ اسلحہ کہیں دوسری واردات میں بھی استعمال تو نہیں ہوا۔

مزید بھی پڑھیں:رائیڈ ہیلنگ کمپنی کے ڈرائیور کے ’قتل‘ کی تحقیقات میں پیشرفت

تیموریہ پولیس اسٹیشن میں 58 سالہ مقتول کے بیٹے محمد ارحام کی مدعیت میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) بھی درج کر دی گئی ہے جبکہ تفتیش بھی جاری ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس کراچی کے علاقے کورنگی میں اوبر کے ڈرائیور کو گاڑی میں مردہ پایا گیا تھا۔

دوسری جانب راولپنڈی میں گزشتہ ہفتے کریم کے 22 سالہ ڈرائیور کو قتل کیا گیا تھا جس کے حوالے سے پولیس نے خدشہ ظاہر کیا تھا انھیں ڈکتیی کے دوران مزاحمت پر قتل کیا گیا۔

اسلام آباد کے جی 13 سیکٹر میں گزشتہ ماہ ایک اور واقعے میں کریم کے ہی ڈرائیور کو قتل کیا گیا تھا۔