اسلام آباد: سپریم کورٹ میں تارکین وطن پاکستانیوں سے قومی شناختی کارڈ کی مد میں زائد وصولیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے وفاقی وزیر داخلہ اور سیکریٹری داخلہ کو طلب کرلیا۔

سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال عدالت میں پیش ہوں، اور سیکرٹری داخلہ کو بھی کہا جائے کہ وہ بھی عدالت میں پیش ہوں۔

چیف جسٹس نے کچھ دیر کے لیے سماعت ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ احسن اقبال اور سیکرٹری داخلہ سے کہا جائے کہ وہ وقفے کے بعد عدالت میں حاضر ہوجائیں۔

مزید پڑھیں: دنیا بھر میں پاکستانی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ

وقفے کے بعد سپریم کورٹ نے تارکین وطن کے شناختی کارڈ کے اجراء میں زائد فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت کا دوبارہ آغاز کیا گیا تو چیئرمین نادرا عثمان مبین نے عدالت کو بتایا کہ وزیر داخلہ احسن اقبال 2 روز کے لئے گوادر گئے ہوئے ہیں جس کے باعث وہ پیش نہیں ہوئے۔

چیف جسٹس نے چیئرمین نادرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ آپ کی سمری پر قیمتیں کم نہیں کرنا چاہتے ہیں تو ہم کمیشن بنا کر خود قیمتیں کم کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیڑھ لاکھ بلاک شناختی کارڈز عارضی طور پر بحال

ان کا کہنا تھا کہ پندرہ سال قبل جو دفاتر کھولے گئے تھے ان کے اخراجات بھی تارکین وطن پاکستانیوں سے وصول کیے جا رہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے چیئرمین نادرا کی درخواست پر سماعت 26 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے وزیر داخلہ اور سیکریٹری داخلہ کو طلب کرلیا۔

چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ وزیر داخلہ عدالت کو بتائیں کہ چیئرمین نادرا کی سمری اب تک منظور کیوں نہیں کی گئی۔