افغانستان میں روزگار کی تلاش میں گئے پاکستانیوں کی گرفتاری پر احتجاج

اپ ڈیٹ 20 مارچ 2018

ای میل

پشاور: 24 پاکستانیوں کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان حکومت ان کے راشتے داروں کی رہائی کے لیے سنجیدہ نہیں جبکہ سپریم کورٹ آف افغانستان نے حراست میں رکھے لوگوں کی رہائی کے لیے واضح احکامات جاری کیے ہیں۔

پشاور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے راشتے داروں کی رہائی کا معاملہ افغانستان کے صدر کے ساتھ مل کر اٹھائیں۔

یہ پڑھیں: پشاور سینٹرل جیل میں قیدیوں کیلئے ’تعلیم بالغاں‘ کلاسز کا آغاز

خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے جمع لوگوں نے بتایا کہ ان کے رشتےدار افغانستان میں زور گار کی تلاش میں گئے لیکن افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں نے انہیں مشتبہ جاسوس اور طالبان قرار دیے کر حراست میں رکھا ہوا ہے۔

چارسدہ کے علاقے شبقدر کے رہائشی اکبر علی نے بتایا کہ ’ان کا بیٹا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہے جو افغان خکومت میں بطور ٹیکس مشیر تعینات تھا لیکن اسے 2013 میں گرفتار کیا گیا اور تاحال وہ ان کی حراست میں ہے‘۔

اکبر علی نے افغان سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ بھی دیکھا جس میں ان کے بیٹے اصغر علی کی رہائی کا حکم درج تھا لیکن اکبر علی کا دعویٰ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو متعلقہ حکام خاطر میں نہیں لار ہے۔

اکبر علی کے مطابق افغان پولیس ان کے بیٹے کے خلاف غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے متعلق شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی۔

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک پاکستانی قیدی قانونی مدد سے محروم

ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے 2 سال جیل میں سزا کاٹنے کے بعد ان کے بیٹے اور دیگر قیدیوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغان سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے لوگوں کو غیر آئینی حراست میں رکھنا افغان سپریم کورٹ کے فیصلوں کی کھلم کھلا خلاف وزری ہے۔

صوابی کے خیر الرحمن نے بتایا کہ ان کا بھتیجا سیکندر رشید چند برس پہلے روز گار کے لیے افغانستان گیا اور جہاں اسے بغیر وجو گرفتار کرکے پور چرکی جیل میں رکھا گیا اور بعدازاں نامعلوم مقام پر منقتل کردیا گیا اور اب اس سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے اپنے بھتیجے کی رہائی کے لیے متعدد مرتبہ افغانستان گئے لیکن وہاں کوئی مدد کے لیے آمادہ نہیں ہے‘۔

مزید پڑھیں: ‘افغان جنگ جیتنے کی ضد چھوڑ کر اس کے اختتام کی بات کریں‘

خیرالرحمن کے مطابق زیر حراست بیشتر پاکستانیوں کا تعلق مردان، صوابی ، چارسدہ اورپشاور سے ہے جو افغانستان روزگار کی تلاش میں گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 4 دہائیوں میں افغان شہریوں کو شیلٹر فراہم کیا اور پاکستانی ان کو بھائی اور بہن کا درجہ دیتے ہیں لیکن ’افغانستان کی جانب پاکستانیوں کے لیے ہمدردانہ جذبات کا اظہار نہیں ہے‘۔

پاکستان کونسل آف ورلڈ ریلیجن کے ترجمان مقصود احمد سلفی نے افغانستان میں پاکستانیوں کی گرفتاری پر افسوس کا اظہار کیا اور افغان حکومت سے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر رہائی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستانیوں کے پاس سفری دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود قید میں رکھنا غیر قانونی ہے‘

مقصود احمد نے زور دیا گیا کہ اسلام آباد اور کابل قیدیوں کی رہائی کے لیے سنجیدگی کا مظاہر کریں۔


یہ خبر 20 مارچ 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی