سپریم کورٹ: رحمٰن ملک کےخلاف توہین عدالت کی درخواست غیر موثر ہونے پر خارج

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کے رہنما عبدالرحمٰن ملک کے خلاف توہین عدالت کی درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹادی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالرحمٰن ملک سے متعلق توہین عدالت کیس کی سماعت کی، اس دوران رحمٰن ملک اور ان کے وکیل پیش ہوئے۔

مزید پڑھیں: توہین عدالت کیس: رحمٰن ملک کو نوٹس جاری

سماعت کے دوران عبدالرحمٰن ملک کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ انٹراکورٹ اپیل میں عدالت معاملہ نمٹا چکی ہے جبکہ جس حکم کے تحت ریکوری کا حکم دیا تھا وہ کالعدم ہوچکا۔

اس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ غیر موثر ہونے والے مقدمات مقرر کرکے نمٹا رہے ہیں، آئندہ چند ہفتوں میں آپ کو ایسے مقدمات نظر آئیں گے جو ایک عرصے سے زیر التوا ہیں۔

دوران سماعت وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو مزید بتایا کہ خدائی خدمت گار مقدمات درج کرا دیتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خدائی خدمت گار کے 55 مقدمات چیمبر میں خارج کردیے۔

اس موقع پر عدالت نے فریقین نے دلائل سننے کے بعد کیس غیر موثر ہونے پر عبدالرحمٰن ملک کے خلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹادی۔

بعد ازاں عبدالرحمٰن ملک نے کہا کہ بطور وزیر 5 سال عدالت میں پیشیاں بھگتا رہا، تاہم آج مقدمہ ختم کرنے پر عدالت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 13 مارچ کو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے عبدالرحمٰن ملک کو نوٹس جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: رحمٰن ملک کی جے آئی ٹی کے سامنے ایف آئی اے رپورٹ کی تصدیق

اس سماعت میں درخواست گزار محمود نے بتایا تھا کہ عبدالرحمٰن ملک کو 2012 سے 2015 تک لی گئی مراعات واپس دینے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم عدالتی حکم پر عمل نہیں ہوا اور وہ ڈیفالٹر ہیں۔

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ سابق وزیر داخلہ کے خلاف سنگین نوعیت کی عدالتی آبزرویشن موجود ہے جبکہ انہوں نے بطور سینیٹر مانیٹر فنڈز واپس نہیں کیے اور ان فنڈز کی واپسی کے لیے الیکشن کمیشن اور سینیٹ نے کوئی کارروائی بھی نہیں کی تھی۔